غیرمقلدین کے سولات کے جوابات

زیادہ دیکھی جانے والی

Thursday, 19 May 2016

نزل الی السماء کے متعلق فرقہ سلفیہ کا عقیدہ اور اس پر علماء سلف کا رد


نزل الی السماء کے متعلق فرقہ سلفیہ کا عقیدہ اور اس پر علماء سلف کا رد

نام نہاد سلفی بلکہ لامذہب سلفی جس طرح سے استوی کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں ویسےاللہ کی دوسری صفات نزول الی السماء وغیرہ  کو نہیں مانتے کیونکہ اگر ویسا مان لیں تو استویٰ کے متعلق جو یہ عقیدہ لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں وہ ان کا پھر خطرے میں پڑ جاتا ہے اسلئے اس  پر یہ لوگ اپنا عقیدہ ایسے بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ استویٰ پر اپنا بنایا عقیدہ باقی رہے۔ اپنا عقیدہ درست نہیں کرتے  اللہ کی  صفات کو اپنے عقیدے کے مطابق  ایڈجسٹ کرتے رہتے ہیں۔
 ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ جیسے استویٰ کو مانیں ویسے ہی نزول کو مانیں دونوں اللہ کی صفات ہیں دونوں کو اسی طرح ماننا ہے ایسا تو نہیں استویٰ کو  کسی اور طرح مانیں اور نزول کے متعلق کوئی اور قاعدہ اصول بنائیں ۔
استویٰ کے متعلق  کہیں گے اس کا مطلب ہے کہ اللہ عرش پر ٹھہرا ہوا ہے اور کہیں نہیں ہے اور عرش اکی سطح سے اوپر ہے ۔ اور جب نزول کی باری آئے تو تقیہ کر لیں گے اور اپنا عقیدہ بچانے کیلئے جو اہلسنت کہتے ہیں وہی کہنا شروع کر دیں کہ اللہ کا نزول فرمانا حق ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ کا نزول کیسا ہوتا ہے یعنی کیفیت کیا ہے۔ لیکن یہی بات استویٰ کے متعلق نہیں کہتے استویٰ کے متعلق کہتے ہیں اللہ عرش پر مستویٰ ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اللہ صرف عرش کے اوپر اوپر ہے۔ یہ ساری کیفیات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کیفیت معلوم نہیں۔ اگر کیفیت کا اثبات ایسے نہیں ہوتا جیسے یہ کرتے ہیں تو اور پھر کون سا طریقہ ہے جس سے کیفیت کا اثبات ہوتا ہو؟
اگر استویٰ کے متعلق بھی یہی کہیں اور مانیں کہ اللہ کا استویٰ فرمانا حق ہے لیکن نہیں معلوم کہ اللہ کا استویٰ کیسا ہے یعنی کیفیت کیا ہے تو اختلاف ہی ختم ہو جائے۔
مگر انہوں نے اسے ختم نہیں کرنا نہ حق کی طرف رجوع کرنا ہے صرف اپنی ضد پر قائم رہنا ہے یا تقیہ کرکے وقتی طور پر اہلسنت کا قول نزول کے متعلق بیان کر دیں گے یا پھر جیسے استویٰ کے متعلق کہتے ہیں ویسے ہی نزول کے متعلق بھی ہمت کرکے کہہ دیں گے جیسے اللہ مستوی ہوا یعنی بقول ان کے مستوی ہونے کا مطلب اللہ کی ذات عرش کے اوپر اوپر ہوئی اور نزول کیا مطلب اللہ کی ذات عرش کے نیچے آگی آسمان دنیا پر
یہ بات ہمیشہ سے ہی ان کے لئے بہت بڑی مصیبت رہی ہے اور اس سے نکلنے کیلئے ہر کوشش کرتے رہے ہیں مگر آج تک ان سے اس کا حل نہیں نکلا

ہم مثال کے طور پر سلفیوں کے چوٹی کے مولویوں سے ان کا موقف پیش کرتے ہیں
سلفیوں کے شیخ صالح العثمین لکھتے ہیں:
نزوله تعالي حقيقي
اللہ کا نزول حقیقی ہے۔
(شرح العقیدة الوسطيه ص 13)

اب اس بات میں شبہ ہے کہ حقیقی سے ان کی کیا مراد ہے اگر تو مراد یہ ہے کہ وہ حقیقت جو اللہ کی شان کے لائق ہے اور ہم اس کو بالکل نہیں جانتے اور وہ حقیقت اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور وہ حقیقت جو لغت میں معروف نہیں بلکہ اللہ ہی جانتا ہے تو بلکل ٹھیک ہے لیکن اگر حقیقی سے ان کی مراد یہ ہے کہ لغت میں نزول کا جو حقیقی معنی کیا جاتا ہے جو معروف ہے وہی مراد ہے تو پھر یہ بلکل درست نہیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان نام نہاد سلفیوں کے ہاں اس سے کون سے بات مراد ہے پہلی یا دوسری
نام نہاد سلفیہ کے دوسرے چوٹی کے مولوی
 خلیل ہراس امام ابن خزیمہؒ کی التوحید اپنی تعلیق میں اللہ کے نزول کے قول کے تحت حاشئے میں لکھتے ہیں۔
«يعني أن نزوله إلى السماء الدنيا يقتضي وجوده فوقها فإنه : انتقال من علو إلى سفل!». 
(ص126)
ترجمہ
یعنی اللہ کا آسمان دنیا پر نزول اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ اس کے اوپر ہو کیونکہ نزول اوپر سے نیچے منتقل ہونے کو کہتے ہیں۔

کیا واقعی ان کے ہاں اللہ اوپر سے نیچے منتقل ہوتا ہے اور عرش خالی ہو جاتا ہے؟

شیخ محمد بن صالح العثمین نے نزول کے وقت عرش خالی ہو جاتا ہے کو اہلسنت کے قول میں سے ایک قول قرار دیا ہے چنانچے وہ لکھتے ہیں:
واذا كان علماء اهل السنة لهم في هذا ثلاثة قول يخلو، وقول بانه لا يخلو، وقول بالتوقف
(شرح عقیدہ الاوسطیہ للعثیمین ص 261)
ترجمہ:
علمائے اہلسنت کے نزول کے بارے میں تین اقوال ہیں
ایک یہ کہ عرش خالی ہو جاتا ہے
دوسرا یہ کہ عرش خالی نہیں ہوتا
تیسرا یہ کہ (خالی ہوتا ہے یا نہیں) اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے۔


ہم ان شاء اللہ ان کے تینوں اقوال کی دھجیاں اڑائیں گے کہ ان میں سے ایک قول کو بھی یہ اپنے لئے اختیار نہیں کر پائیں گے۔

پہلا قول
آنکھوں والے اپنے آنکھیں کھول کر دیکھیں صاف صاف سلفیوں کے اس چوٹی کے عالم نے عرش خالی ہونے کو اہلسنت کا قول قرار دیا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک یعنی بقول اس کے اللہ کی ذات نزول کے وقت عرش چھوڑ کر نیچے منتقل ہو جاتی ہے یہ اہلسنت کا عقیدہ ہے۔
کم فہم سلفیو دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کیا یہ عقیدہ درست ہے اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے،
اس کی تفصیل ”عقائد علماء اہل حدیث“ عقیدہ نمبر 19 میں دیکھیں بہرحال یہاں مختصر لکھتے ہیں۔
اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ
(الحدید 3)
ترجمہ
وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن
رسول اللہﷺ اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں
"اللهم أنت الأول، فليس قبلك شيء، وأنت الآخر، فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن، فليس دونك شيء".
اے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ، تو ”آخر“ ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ”ظاہر“ ہے تیسرے اوپر کچھ نہیں، تو ”باطن“ ہے تیرے نیچے کچھ نہیں۔
(صحیح مسلم)

جبکہ ان لامذہبوں کے ہاں نزول الی السماء کے وقت عرش اللہ کے اوپر ہوتا ہے نعوذ باللہ
پہلے تو یہ سمجھا جاتا کہ شاید یہ لامذہب اللہ کے اوپر کسی چیز کو نہیں مانتے مگر یہاں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ گمراہ تو جیسے اللہ کی ذات کو نیچے سے ختم مان کر اگے مخلوق کا تصور مانتے ہیں  جس کا رد نبیﷺ نے کیا اسی طرح اللہ کے اوپر بھی مخلوق ماننے کے قائل ہیں۔
ان کے پہلے قول کا یہ حال ہے۔

اب آتے ہیں ان کے دوسرے قول کی طرف
کہ اللہ کا عرش خالی نہیں ہوتا
اب اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اللہ کی ذات عرش سے نیچی آتی ہی نہیں یہ تو پھر ان کے اپنے نزدیک نزول کا انکار ہو گیا اور دوسرا مطلب یہ کہ اللہ کی ذات عرش کے اوپر بھی ہوتی ہے اور نیچے بھی ہوتی ہے یعنی بیک وقت اللہ عرش پر بھی ہوتا ہے اور آسمان دنیا پر بھی
اب اگر ان کی یہ بات مان لیں تو دنیا میں ہر وقت کہیں نہ کہیں رات کا وقت ضرور ہوتا ہے ہوتا ہے کہ نہیں؟ تو پھر ماننا پڑے گا کہ اللہ ہر وقت عرش پر بھی ہوتا ہے اور آسمان دنیا پر بھی اب ان کا یہ کہنا کہ اللہ کی ذات صرف عرش کے اوپر ہے اور کہیں نہیں کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ یہ عقیدہ کامل نہ رہا اللہ کی ذات صرف عرش پر ہے یہ عقیدہ تو ان کے اپنے ہاتھ سے ٹوٹ گیا۔

تیسرا قول
کہ خاموشی اختیار کی جائے کہ معلوم نہیں عرش خالی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
شیخ ابن العثمین نے اس بات سے پہلے تیسرے قول کو اختیار کیا کہ اس بارے میں سکوت کرنا چاہئے صحابہ نے کیا وغیرہ وغیرہ اب اگر نزول کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ویسے ہی استویٰ کے متعلق سکوت کیوں نہیں اختیار کرتے؟ پھر کیا سکوت والے قول ان کے لئے مفید ہے ؟
افسوس کے ان لامذہبوں کیلئے یہ بھی مفید نہیں
کیونکہ حافظ ابن تیمیہ جو کہ ہر نام نہاد سلفی کو محبوب ہیں ان سے ایک سوال ہوا:
وأما سؤال السائل: هل يخلو منه العرش أم لا يخلو منه؟
وقول المسؤول: هذا قول مبتدع ورأى مخترع ـ حيدة منه عن الجواب ـ يدل على جهله بالجواب السديد
ترجمہ
سوال
ایک آدمی نزول کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ آیا اس وقت عرش خالی ہوتا ہے یا نہیں تو دوسرا جب یہ جواب دے کہ یہ ایک بدعتی کا قول ہے اور نئی ایجاد کردہ رائے ہے۔(یعنی یہ سوال بدعت ہے)
ابن تیمیہ جواب دیتے ہیں
یعنی یہ کہنا کہ یہ قول بدعت ہے اور نئی ایجاد کردہ رائے ہے یہ بات دراصل جواب سے بھاگنا ہے جو کہ اس سوال کا صحیح جواب سے جاہل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
(شرح حدیث النزول ص33 - 32)
سبحان اللہ گوا کہ شیخ ابن عثیمین جو اس معاملے میں نہ پڑنا ہی صحابہ کرام کا راستہ مانتے ہیں حافظ ابن تیمیہ کے ہاں صحیح جواب سے جاہل اور بھاگ جانے والے ہیں۔
اور دوسری سائیڈ ابن تیمیہ بقول ابن عثیمین صحابہ کرام کا راستہ چھوڑ گئے کیونکہ انہوں نے سکوت اختیار نہیں کیا۔

اب ان نام نہاد سلفیوں کو کوئی چوتھا قول بنانا چاہئےکیونکہ یہ تین تو ان کے کسی کام کے نہیں رہے۔

نام نہاد سلفیو آؤ دیکھو سلف کیا کہتے ہیں

علماء سلف  کا موقف
1
امام بیہقیؒ فرماتے ہیں:
وأن نزوله ليس بنقلة
ترجمہ:
اور اس کا نزول نہیں ہے منتقل ہونے کی طرح
(الاعتقاد - البيهقي ج1 ص 17 ، السماء والصفات للبيهقي)

2
امام أبو بكر محمد الباقلانيؒ
لا يوصف بالتحول والانتقال
ترجمہ
اللہ پاک ہے منتقل ہونے سے۔
[الإنصاف فيما يجب اعتقاده ولا يجوز الجهل به – ص ٦٤]

3
امام قرطبیؒ
والله جل ثناؤه لا يوصف بالتحول من مكان إلى مكان، وأنى له التحول والانتقال
ترجمہ
اللہ پاک ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے اور کہیں منتقل ہونے سے۔
[الجامع لأحكام القرءان، القرطبي – سورة الفجر آیہ وجاء ربك والملك صفا صفا]

4
امام قسطلانیؒ
لا نزول حركة وانتقال
ترجمہ
نزول نہیں حرکت والا یا منتقل ہونے والا
[شرح صحيح البخاري، القسطلاني – المجلد الثاني، ص ٣٢٣]

5
الحافظ المتبحر عبد الرحمن بن الجوزيؒ
إنه يستحيل على الله عزَّ وجلَّ الحركة والنقلة والتغيير. وواجب على الخلق اعتقاد التنزيه وامتناع تجويز النقلة وأن النزول الذي هو انتقال من مكان إلى مكان يفتقر إلى ثلاثة أجسام جسم عال وهو مكان الساكن وجسم سافل وجسم ينتقل من علو إلى أسفل وهذا لا يجوز على الله قطعا“.
( دفع شبه التشبيه بأكف التنزيه / الباز الأشهب )
ترجمہ

بے شک اللہ تعالی کیلئے حرکت کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور حالت کا بدلنا، یہ سب کچھ ثابت کرنا ناممکن ہے. مخلوق پہ اللہ تعالی کا ہر چیز سے پاک ہونا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے ثبوت کے انکار کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے. اور نازل ہونا جو کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے، اسکے لئے تین اجسام ضروری ہیں. بلند جسم جو کہ ٹہرنے کی جگہ ہے، اور نیچا جسم، اور وہ جسم جو بلندی سے نیچے کی طرف منتقل ہوتا ہے. اور یہ سب اللہ تعالی کیلئے بالکل بھی ثابت نہیں.

ایک اور جگہ فرقہ سلفیہ کے عقیدے کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں
”مجھے ایسے لوگوں پر بڑی حیرت ہوتی ہے جو علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور بعض احادیث کو ظاہر پہ محمول کرتے ہوئے عقیدہ تشبیہ کا رجحاج رکھتے ہیں
اسی طرح (سلفیوں کا عقیدہ) بیان کرتے ہیں
اللہ پاک عرش پہ اپنی ذات کے ساتھ مستوی ہوا اور آسمان دنیا پہ اپنی ذات کے ساتھ نزول فرماتا ہے اس کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں تو یہ ایسی زیادتی ہے جس کو اس کے قائل نے اپنی طبیعت سے سمجھا ہے قرآن و حدیث سے نہیں“۔
(مجالس جوزیہ ص 111- 112)

6
امام بدر الدين بن جماعةؒ (ت ٧٢٧ هـ) بھی فرماتے ہیں
اللہ منتقل ہونے سے پاک ہے۔
اعلم أن النزول الذي هو الانتقال من علو إلى سفل لا يجوز حمل الحديث عليه، لوجوه :
الأول : النزول من صفات الأجسام والمحدَثات ويحتاج إلى ثلاثة : منتقِل، ومنتقَل عنه ومنتقَل إليه، وذلك على الله تعالى محال.
(إيضاح الدليل في قطع حجج أهل التعطيل)

7
امام بیضاویؒ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کا نزول فرمانا منتقل ہونے کے معنی میں نہیں۔
وقال البيضاوي : ولما ثبت بالقواطع أنه سبحانه منزه عن الجسمية والتحيز امتنع عليه النزول على معنى الانتقال
[فتح البارئ شرح صحيح البخاري – المجلد الثالث – كتاب الصلاة: باب الدعاء ]

8
امام طبریؒ بھی اللہ کو منتقل ہونے سے پاک مانتے ہیں:
الحمد لله الأول قبل كل أول، والآخر بعد كل آخر، والدائم بلا زوال، والقائم على كل شيء بغير انتقال، والخالق خلقه من غير اصل ولا مثال
(تاریخ طبری ج 1 ص 3)

9
امام ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں:
.وقد قالت فرقة منتسبة إلى السنة إنه ينزل بذاته ! وهذا قول مهجور لأنه تعالى ذكره ليس بمحل للحركات ولا فيه شيء من علامات المخلوقات."
(الاستذکار ج 8 ص 153)
ترجمہ
ایک فرقہ جو اپنا انتساب سنت کی طرف کرتا کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات سمیت نازل ہوتا ہے حالانکہ یہ متروک قول ہے کیونکہ اللہ تعالٰی حرکات و سکنات والی جگہ سے منسوب ہے نہ ہی اس میں مخلوقات کی کوئی علامت ہے ۔

مزید نازل بالذات کے قائلین کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ليس هذا بشيء ثم أهل الفهم من أهل السنة ، لأن هذا كيفية وهم يفزعون منها ، لأنها لا تصلح إلا فيما يحاط به عيانا ، وقد جل الله وتعالى عن ذلك
ترجمہ
اہلسنت والجماعت کے حاملین فہم و فراست کے نزدیک اس بات کی کوئی حقیقت نہیں (یعنی اللہ کا بذاتہ نازل ہونا) کیونکہ اس طرح اللہ تعالٰی کی کیف لازم آئے گی اور ائمہ مذکورین اثبات کیفیت سے خوف کرتے ہیں اسلئے کہ کیفیت (یا اثبات مکان) اسی وقت ممکن ہے جب آنکھیں اللہ تعالٰی کی ذات کا احاطہ کر سکیں حالانکہ اللہ تعالٰی اس صفت مخلوق سے پاک ہے“۔
(التمهيد ج 7 ص 143)

10
محدث امام نوویؒ فرماتے ہیں:
اعْلَمْ أَنَّ لِأَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَحَادِيثِ الصِّفَاتِ وَآيَاتِ الصِّفَاتِ قَوْلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَهُوَ مَذْهَبُ مُعْظَمِ السَّلَفِ أَوْ كُلِّهِمْ أَنَّهُ لَا يُتَكَلَّمُ فِي مَعْنَاهَا بَلْ يَقُولُونَ يَجِبُ عَلَيْنَا أَنْ نُؤْمِنَ بِهَا وَنَعْتَقِدَ لَهَا مَعْنًى يَلِيقُ بِجَلَالِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَظَمَتِهِ مَعَ اعْتِقَادِنَا الْجَازِمِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَأَنَّهُ مُنَزَّهٌ عَنِ التَّجَسُّمِ وَالِانْتِقَالِ وَالتَّحَيُّزِ فِي جِهَةٍ وَعَنْ سَائِرِ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِ وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ مَذْهَبُ جَمَاعَةٍ مِنَ الْمُتَكَلِّمِينَ
ترجمہ
جان لو اہل علم کا قرآن و حدیث میں موجود ان صفات کے متعلق وہی مذہب ہے جو کہ جمہور سلف کا تھا کہ
معنی میں کلام نہیں کرنا بلکہ وہ یوں کہتے ہیں کہ واجب ہے ان پر ایمان لانا، اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کا وہی معنی ہے جو اللہ کی شان و عظمت کے لائق ہے ، اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ تعالٰی کسی چیز کی مثل نہیں وہ پاک ہے جسم سے ، اور کہیں منتقل ہونے سے ، اور جھت میں ہونے سے اور کسی بھی مخلوق کی صفات سے۔
یہی قول ہے علماء متکلمین کا اور محققین اسلام کا۔
(شرح صحیح مسلم للنووي ج 3 ص 19)

11
امام ذهبیؒ فرماتے ہیں:
وكذا قوله : وجاء ربك ونحوه ، فنقول : جاء ، وينزل ، وننهى عن القول : ينزل بذاته ، كما لا نقول : ينزل بعلمه ، بل نسكت ولا نتفاصح على الرسول -صلى الله عليه وسلم- بعبارات مبتدعة ، والله أعلم .
ترجمہ
اسی طرح اللہ کا یہ ارشاد ”اور تمہارا رب آیا“ اور ان جیسی دوسری آیات تو ہم یہ کہتے ہیں اللہ آئے اور وہ نزول فرماتے ہیں البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اللہ اپنی ذات سمیت نازل ہوتے ہیں جیسا کہ ہم اس بات کے کہنے سے بھی باز رہتے ہیں کہ اللہ اپنے علم کے ذریعہ نازل ہوتا ہے بلکہ ہم اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے رسولﷺ کے تعلق سے نئی اور انوکھی عبارتیں بیان نہیں کرتے ہیں۔ واللہ علم
(الكتب » سير أعلام النبلاء » الطبقة التاسعة والعشرون » كوتاه جلد 20 ص 331)

12
امام الجرح والتعدیل حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
اخْتُلِفَ فِي مَعْنَى النُّزُولِ عَلَى أَقْوَالٍ فَمِنْهُمْ مَنْ حَمَلَهُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَحَقِيقَتِهِ وَهُمُ الْمُشَبِّهَةُ
ترجمہ
نزول کے معنی کے متعلق مختلف اقوال ہیں مگر جس نے اسے ظاہر اور حقیقت (جیسا سلفی کرتے ہیں) پر حمل کیا وہ مشبہۃ (گمراہ فرقہ) ہے۔
(فتح الباري لابن حجر ج 3 ص 30)

یہ ہیں علماء سلف اب ذرہ خود ہی انصاف سے فیصلہ کیجئے کیا یہ فرقہ سلفی کہلائے جانے کا حقدار ہے؟

دعوت و فکر
ہم نام نہاد  سلفیوں کو دعوت و فکر دیتے ہیں کہ  جو عقیدہ جمہور سلف کا ہے اسے اپنائیں جو  حق ہے اسے قبول کریں۔  اللہ کی ذات و صفات کو اپنے عقیدے کے مطابق ایڈجیسٹ نہ کریں اس کی بنیاد ہی غلط ہے آپ کا پہلا عقیدہ دوسرے کو اور دوسرا پہلے کو رد کر دیتا ہے  اور یہ اس لئے ہوتا کہ آپ نے اللہ کی صفات  کو ماننے کیلئے   غلط بنیادیں رکھیں ۔

استوی مانتے ہو ایسے مانو  ، حق ہے  لیکن کیسا ہے یعنی کیفیت کیا ہے معلوم نہیں
نزول ہے حق    ہے، مگر  کیسا ہے کیفیت کیا ہے معلوم نہیں
آپ کہتے ہو استوی حق ہے اور  یہ ایسا ہے(یعنی کیفیت)  کہ اللہ کی ذات عرش کے اوپر اوپر ہے،  نیچےسے ذات ختم ہوتی ہے، جھت ہے مکان ہے، حدود ہیں فلاں فلاں پھر آخر میں کہہ دیتے ہو کیفیت مجھول ہے۔  
اس شبے کو مٹاؤ باقی شبے بھی مٹ جائیں گے ان شاءاللہ  جو ہمارے متعلق الزامات یا ہمارا موقف  صحیح سے نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ لوگوں کے ہاں مشہور ہیں۔

اسی موضوع کے متعلق پرانا مضمون پڑھنے کیلئے



Friday, 26 February 2016

متفرق / پوسٹ / سکین / آپڈیٹ


اللہ ہر جگہ ہے اس جملے سے آخر کیا مقصورد ہے؟(New)


 رسالہ اہل ثغر ، امام ابو الحسن اشعریؒ


جواب نمبر 2
شیخ سعید فودہ د.ب اس کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں کہ چونکہ شریعت میں اللہ تعالی کو فی السماء تو فرمایا گیا ہے اس لیے اللہ کو فی السماء کہنا درست ہے دون ارضہ ..کا مطلب کہ نہ کہ اس کے زمین میں ...یہ ہے کہ اللہ تعالی کو صرف فی الارض کہیں بھی نہیں کہا گیا لہذا زمین میں اللہ کو کہنا درست نہیں
..
اور دیکھیے سلف اللہ تعالی کو فی السماء ..یا علی العرش ان الفاظ کا قران وحدیث میں ورود کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں. کہ الرحمن "علی العرش "استوی ایا ہے ..اسی طرح اءمنتم من "فی السماء "یرحمکم.من فی السماء "ایا ہے
اللہ تعالی کو اسمان والا کہنا درست ہے لیکن اللہ جل شانہ کے لائق معنی سے
یعنی چونکہ اسمان میں اس کی بادشاہت ہے حکم صرف اسی کا چلتاہے زمین میں مجازی خداؤں کا حکم بھی چلتا ہے اس لیے اللہ سبحانہ ؤ تعالی کو اوپر والا اسمان والا کہا جانا بالکل درست ہے زمین میں ہونے کا ایسا کوئی معنی نہیں بنتا اس لیے اللہ تعالی کو فی الارض کہنا درست نہیں
یہی مطلب ہے فی سماءہ دون ارضہ
اسی طرح اللہ تعالی کو فوق کہا جاتا ہے علو میں کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا مفہوم ایک صحیح معنی میں بنتا ہے لیکن تحت (نیچھے) کا کوئی لائق باری تعالی معنی نہیں بنتا اس لیے اللہ کو تحت کہنا درست نہیں

سلف کی مراد ہرگز اللہ تعالی کو اسمان سے اوپر بالذات استقرار کیا ہوا ثابت کرنا مقصود نہیں اس پر ان کے دیگر اقوال دلالت کرتے ہیں جن میں حد کی نفی ہے جسم کی نفی ہے کہ جسم طول عرض عمق والے معنی کے لیے ہے اللہ اس سے پاک ہے 

Sunday, 6 December 2015

Hadees e Jariya Allah Kahan Ha Ki Sahih Tashreh


حدیث جاریہ (این اللہ) کی صحیح تشریح

قَالَ وَکَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَی غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ کَمَا يَأْسَفُونَ لَکِنِّي صَکَکْتُهَا صَکَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَائِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ
راوی معاویہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کرلے گیا ہے آخر میں بھی بنی آدم سے ہوں مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا مجھ پر یہ بڑا گراں گزرا اور میں نے عرض کیا کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ میں اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے اس لونڈی نے کہا آسمان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا میں کون ہوں اس لونڈی نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لونڈی کے مالک سے فرمایا اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے۔
(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1194 )

فر قہ  اہل حدیث جو اپنے آپ کو سلفی  بھی کہتے ہیں ان کا موقف ہے کہ یہ لفظ (اين الله) اللہ کے مکان اور جہت کے متعلق سوال تھا  سننے خود فرقہ اہل حدیث کے  موجودہ دور میں ایک بڑے عالم طالب الرحمٰن کی زبانی جس اس کا فرقہ فضلۃ الشیخ اور  اللہ جانے  کیا کیا کہتا ہے۔
اگر یوٹیوب نہ کھلے تو اس لنک میں جائیں

فرقہ اہلحدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب  بھی اللہ کیلئے جہت کے قائل ہیں۔
(مجموعہ رسائل عقائد ج 3 ص 147)

نزل الابرار جو کہ غیرمقلدین کے لئے فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے۔
(فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ص 493)
میں  لکھا ہے کہ
وهو في جهة  الفوق ، ومكانه العرش
وہ (اللہ) اوپر کی جہت میں ہے اور س کا مکان عرش ہے۔
(نزل الابرار ص 3 کتاب الایمان)

امام اہل حدیث نواب وحید الزمان خان صاحب جن کے بارے میں خود غیرمقلدین نے یہ تصریح کی ہے کہ وہ عقائد میں پوری طرح سے سلفی تھے
تذکرہ النبلا فی تراجم العلماء ص 385))

رئیس ندوی جنہیں فرقہ اہلحدیث وکیل سلفیت کہتی ہے وحید الزمان کو امام اہل حدیث کہتے ہیں۔
دیکھئے (سلفی تحقیقی جائزہ ص 635)

داؤد ارشد صاحب غیرمقلد ان کے بارے میں لکھتے ہیں
”بلا شبہ یہ ہمارے اسلاف میں سے تھے“۔
(حدیث اور اہل تقلید ص 162)

اور غیرمقلدین اپنے آپ کو سلفی انہی کی طرف منسوب کرکے کہتے ہیں کیونکہ ان کے عقائد و مسائل  بلکل ایک جیسے ہیں فرق اتنا ہے کہ  وحید الزمان نے کھل کر لکھے اور آج کا غیرمقلد تقیہ کرتا ہے۔
آج کل کے جاہل غیرمقلدین حضرات اپنے اس امام اہلحدیث   سے جان چھڑانے کیلئے  اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ  ہمار امام اہل حدیث بعد میں شیعہ ہو گیا تھا جب کہ خود ان کے اپنے ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ وحید الزمان صاحب آخری دم تک اہل حدیث رہے۔
(ماہنامہ محدث ج 35 جنوری 2003 صفحہ 77)

اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ  لامذہب فرقہ اللہ کیلئے جھت کا اثبات کرتا ہے  اور جھت کا اثبات  اسی طریقے سے ہوتا ہے جو یہ استعمال کرتے ہیں یا  کوئی سپیشل طریقہ ہوتا ہے جہت کا اثبات کرنے کا؟ اب ان میں سے کوئی زبان سے یہ کہتا بھی رہے کہ میں جھت نہیں مانتا میں جھت نہیں مانتے اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ کوئی اگر اندر سے پکا مشرک ہو اور   عمل بھی واضح طور پر شرکیہ کرتا رہے اور زبان سے کہتا رہے میں مشرک نہیں میں مشرک نہیں تو آپ اسے موحد کہیں گے؟

عقیدہ اہلسنت
امام طحاویؒ اپنی کتاب عقیدہ طحاویہ میں تمام اہلسنت والجماعت کے عقائد اور تین مجتہدین جن میں سے مجتہد مطلق امام ابو حنیفہؒ ، مجتہد فی المذہب امام ابو یوسفؒ ، مجتہد فی المذہب امام محمد بن الحسن شیبانیؒ   ہیں انکے عقائد نقل کرتے ہیں۔

هذا ذِكرُ بيانِ عقيدةِ أهلِ السنّةِ والجماعةِ على مذهبِ فُقهاءِ المِلّةِ: أبي حنيفةَ النعمانِ ابنِ ثابتٍ الكوفيّ، وأبي يوسفَ يعقوبَ بنِ إبراهيمَ الأنصاريّ، وأبي عبدِ الله محمدِ ابنِ الحسنِ الشيْبانيّ، رِضوانُ اللهِ عليهم أجمعينَ، وما يعتقدونَ من أصولِ الدينِ، ويَدينون بهِ لربِّ العالمين

یعنی یہ بیان هے أهل السنّة والجماعة کے عقیده کا فقهاء الملة أبي حنيفةَ النعمانِ ابن ثابت الكوفي،اورأبي يوسف يعقوب بن إبراهيم الأنصاريّ،اور أبي عبد الله محمد ابن الحسن الشيْبانيّ، رِضوانُ اللهِ عليهم أجمعينَ،کے مذهب کے مطابق اور أصول الدينِ میں اورالله ربُ العالمين کے بارے جوعقائد وه رکهتے ہیں اس کا ذکروبیان ہے۔
(متن عقیدہ طحاویہ ص 7)

پھر اسی کتاب میں اگے فرماتے ہیں
 وتعالى عن الحدودِ والغاياتِ والأركانِ والأعضاءِ والأدوات، لا تحويهِ الجهاتُ الستُّ كسائرِ المبتدعات
اللہ عزوجل حدود و قیود اور جسمانی رکان و اعضا و آلات سے پاک ہے اور جھات ستہ (اوپر نیچے دائیں بائیں اگے پیچھے) سے پاک ہے“۔
(متن عقیدہ طحاویہ ص 15)

این اللہ کی صحیح تشریح

شارح صحیح مسلم امام نوویؒ (المتوفٰی 676ھ) فرماتے ہیں:
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أحَادِيثِ الصِّفَاتِ وَفِيهَا مَذْهَبَانِ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُمَا مَرَّاتٍ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ أَحَدُهُمَا الْإِيمَانُ بِهِ مِنْ غَيْرِ خَوْضٍ فِي مَعْنَاهُ مَعَ اعْتِقَادِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَتَنْزِيهِهِ عَنْ سِمَاتِ الْمَخْلُوقَاتِ وَالثَّانِي تَأْوِيلُهُ بِمَا يَلِيقُ بِهِ فَمَنْ قَالَ بِهَذَا قَالَ كَانَ الْمُرَادُ امْتِحَانَهَا هَلْ هِيَ مُوَحِّدَةٌ تُقِرُّ بِأَنَّ الْخَالِقَ الْمُدَبِّرَ الْفَعَّالَ هُوَ اللَّهُ وَحْدَهُ وَهُوَ الَّذِي إِذَا دَعَاهُ الدَّاعِي اسْتَقْبَلَ السَّمَاءَ كَمَا إِذَا صَلَّى الْمُصَلِّي اسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ مُنْحَصِرٌ فِي السَّمَاءِ كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ مُنْحَصِرًا فِي جِهَةِ الْكَعْبَةِ بَلْ ذَلِكَ لِأَنَّ السَّمَاءَ قِبْلَةُ الدَّاعِينَ كَمَا أَنَّ الْكَعْبَةَ قِبْلَةُ الْمُصَلِّينَ أَوْ هِيَ مِنْ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ الْعَابِدِينَ لِلْأَوْثَانِ الَّتِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَلَمَّا قَالَتْ فِي السَّمَاءِ عَلِمَ أَنَّهَا مُوَحِّدَةٌ وَلَيْسَتْ عَابِدَةً لِلْأَوْثَانِ قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ لَا خِلَافَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَاطِبَةً فَقِيهُهُمْ وَمُحَدِّثُهُمْ وَمُتَكَلِّمُهُمْ وَنُظَّارُهُمْ وَمُقَلِّدُهُمْ أَنَّ الظَّوَاهِرَ الْوَارِدَةَ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى فِي السَّمَاءِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السماء أن يخسف بكم الأرض وَنَحْوِهِ لَيْسَتْ عَلَى ظَاهِرِهَا بَلْ مُتَأَوَّلَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ فَمَنْ قَالَ بِإِثْبَاتِ جِهَةِ فَوْقُ مِنْ غَيْرِ تَحْدِيدٍ وَلَا تَكْيِيفٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ وَالْفُقَهَاءِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ تَأَوَّلَ فِي السَّمَاءِ
أَيْ عَلَى السَّمَاءِ وَمَنْ قَالَ مِنْ دَهْمَاءِ النُّظَّارِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ وَأَصْحَابِ التَّنْزِيهِ بِنَفْيِ الْحَدِّ وَاسْتِحَالَةِ الْجِهَةِ فِي حَقِّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى
(المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج ج5 ص 24-25 الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
ترجمہ:
”اسے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ کہاں ہے؟ کہنے لگی آسمان میں
یہ صفات والی احادیث میں سے ہے اور اس میں دو مذہب ہیں
 ایک یہ کہ اعتقاد رکھنا اسکے معنی میں غور کئے بغیر کہ اللہ تعالٰی جیسا کوئی بھی نہیں اور وہ مخلوق کی صفات سے پاک ہے
 اور دوسرا یہ کہ اسکی کوئی تاویل پیش کی جائے جو اللہ کی شان کے لائق ہو
 پس جو یہ کہتے ہیں انکے نزدیک یہ اس عورت کے امتحان کیلئے تھا کہ یہ موحد ہے اقرار کرتی ہے کہ خالق مدبر فعال صرف اللہ اکیلا ہے، اور وہ یہ کہ جب دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو آسمان کی طرف چہرہ کرتا ہے جیسا کہ نماز پڑھتا ہے تو کعبہ کی طرف منہ کرتا ہے، اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالٰی اسی میں منحصر ہے(جیسا آج کا جاہل فرقہ سلفیہ کہتا ہے) بلکہ جیسے آسمان مانگنے والوں کا قبلۃ ہے کعبہ نمازیوں کا قبلۃ ہے
 قاضی عیاض کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بڑوں یعنی فقہاء محدثین متکلمین انہی جیسے اور انکے مقلدین میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس طرح کی ظاہر نصوص جن میں اللہ تعالٰی کا آسمان میں ہونے کا ذکر ہے جیسا کہ فرمایا أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السماء  اور اسی طرح کی نصوص اپنے ظاہر پر نہیں ہیں بلکہ ان میں تاویل ہوتی ہے سب کے نزدیک
 پس محدثین فقہاء اور متکلمین میں سے جنہوں نے اوپر کی جہت کو مانا ہے متعین کرنے اور کیفیت کے بغیر، انہوں نے آسمان پر آسمان کے ساتھ تاویل کی ہے
اور جس نے متعین کرنے کی نفی کی اور جہت کا محال ہونا بتایا ہے اس نے سبحان وتعالى کے بارے میں“۔

امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی امام نوویؒ کی یہ بات نقل کی ہے۔

فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ النَّوَوِيُّ هَذَا مِنْ أَحَادِيثِ الصِّفَاتِ وَفِيهَا مَذْهَبَانِ أَحَدُهُمَا الْإِيمَانُ مِنْ غَيْرِ خَوْضٍ فِي مَعْنَاهُ مَعَ اعْتِقَادِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَتَنْزِيهُهُ عَنْ سِمَاتِ الْمَخْلُوقِينَ وَالثَّانِي تَأْوِيلُهُ بِمَا يَلِيقُ بِهِ فَمَنْ قَالَ بِهَذَا قَالَ كَانَ الْمُرَادُ بِهَذَا امْتِحَانُهَا هَلْ هِيَ مُوَحِّدَةٌ تُقِرُّ بِأَنَّ الْخَالِقَ الْمُدَبِّرَ الْفَعَّالَ هُوَ اللَّهُ وَحْدَهُ وَهُوَ الَّذِي إِذَا دَعَاهُ الدَّاعِي اسْتَقْبَلَ السَّمَاءَ كَمَا إِذَا صَلَّى لَهُ الْمُصَلِّي اسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ مُنْحَصِرٌ فِي السَّمَاءِ كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ مُنْحَصِرًا فِي جِهَةِ الْكَعْبَةِ بَلْ ذَلِكَ لِأَنَّ السَّمَاءَ قِبْلَةُ الدَّاعِينَ كَمَا أَنَّ الْكَعْبَةَ قِبْلَةُ الْمُصَلِّينَ قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ لَا خِلَافَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَاطِبَةً فَقِيهِهِمْ وَمُحَدِّثِهِمْ وَمُتَكلِّمِهِمْ وَنُظَّارِهِمْ وَمُقَلِّدِهِمْ أَنَّ الظَّوَاهِرَ الْمُتَوَارِدَةَ بِذِكْرِ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى أأمنتم من فِي السَّمَاء وَنَحْوِهِ لَيْسَتْ عَلَى ظَاهِرِهَا بَلْ هِيَ مُتَأَوَّلَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ فَمَنْ قَالَ بِإِثْبَاتِ جِهَةَ فَوْقٍ مِنْ غَيْرِ تَحْدِيدٍ وَلَا تَكْيِيفٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ وَالْفُقَهَاءِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ تَأَوَّلَ فِي السَّمَاءِ عَلَى السَّمَاءِ وَمَنْ قَالَ بِنَفْيِ الْحَدِّ وَاسْتِحَالَةِ الْجِهَةِ فِي حَقه سُبْحَانَهُ
(حاشية السيوطي علي سنن النسائي ج3 ص 18)

امام نور الدين السنديؒ (المتوفى: 1138هـ) فرماتے ہیں
أَيْن الله قيل مَعْنَاهُ فِي أَي جِهَة يتَوَجَّه المتوجهون إِلَى الله تَعَالَى وَقَوْلها فِي السَّمَاء أَي فِي جِهَة السَّمَاء يتوجهون وَالْمَطْلُوب معرفَة أَن تعترف بِوُجُودِهِ تَعَالَى لَا اثبات الْجِهَة
ترجمہ
پوچھا گیا "این اللہ" (یعنی اللہ کہاں ہے) اس کا معنیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے والے کس جہت کی طرف متوجہ ہوں، اور (باندی کا جواب میں )کہنا "فی السماء" ( آسمان میں) یعنی آسمان کی جہت میں وہ لوگ متوجہ ہوں گے اور (اس سوال سے )مطلوب یہ جاننا ہے کہ وہ یعنی باندی اللہ تعالیٰ کے وجود کو جانتی ہے ، اِس سے (اللہ کی ذات کی) جھت کا اثبات کرنا نہیں“۔
(حاشية السندي على سنن النسائي ج3 ص18-19)

ہزاروں شاگردوں کے استاد اور  امام اہلسنت حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں
وَقوم نقصت عُقُولهمْ كأكثر الصّبيان والمعتوهين والفلاحين والأرقاء، وَكثير يزعمهم النَّاس أَنهم لَا بَأْس بهم، وَإِذا نقح حَالهم عَن الرسوم بقوا لَا عقل لَهُم، فَأُولَئِك يَكْتَفِي من إِيمَانهم بِمثل مَا اكْتفى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من الْجَارِيَة السَّوْدَاء سَأَلَهَا " أَيْن الله " فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاء، إِنَّمَا يُرَاد مِنْهُم أَن يتشبهوا بِالْمُسْلِمين لِئَلَّا تتفرق الْكَلِمَة.
ترجمہ
”کچھ لوگ کم عقل ہیں جیسے اکثر بچے اور کم عقل لوگ اور کسان اور  باندی غلام ان میں سے بہت سوں کے بارے میں یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ ٹھیک ٹھاک لوگ ہیں لیک جب ان لوگوں  کے حال کی تحقیق کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ رسول و رواج سے ہٹ کر یہ لوگ عقل سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے ایمان پر اس طرح سے اکتفا کیا جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ نے جب حبشن باندی سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے  تو اس کے اس جواب پر کہ اللہ آسمان میں ہے اکتفا کیا“۔
(حجة الله البالغة ج1 ص 205 الناشر: دار الجيل، بيروت - لبنان)

 آپ کا مقصد اس لونڈی سے یہ معلوم کروانا تھا کہ وہ  ایک اکیلے اللہ کو  مانتی ہے یا نہیں اسلئے اللہ کے نبی نے اس لونڈی کے فہم کے مطابق ہی اس سے سوال کیا کیونکہ ہزاروں لاکھوں صحابہ نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا لیکن کہیں ثابت نہیں کہ آپ نے کسی ایک سے بھی یہ سوال کیا ہو۔

مزے کی بات یہ ہے کہ   ان یہ دلیل کیسے بن جبکہ   یہ فرقہ حقیقت میں اللہ کو تو آسمانوں میں مانتا ہی نہیں ہے آسمانوں کو ایسے ہی خالی مانتا ہے جیسا کہ جہمیہ مانتے ہیں

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ وَذَكَرَ الْجَهْمِيَّةَ فَقَالَ إِنَّمَا يُحَاوِلُونَ أَنْ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ
ترجمہ
سلیمان ؒ فرماتے ہیں حماد بن زیدؒ(محدث و فقیہ)نے ایک مرتبہ فرقہ جہمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آسمان میں کچھ نہیں ہے
(مسند الإمام أحمد بن حنبل(ج۴۵/ص۵۶۷):صحیح)

اگر اللہ صرف عرش پر ہی تھے تو اللہ کے نبی کبھی اتنی اہم بات سے اس لونڈی کو بےخبر نہ رکھتے اس لونڈی کو ضرور سمجھاتے کہ اللہ آسمانوں میں نہیں  صرف عرش پر ہے۔

اب انصاف کے ساتھ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ اگر یہ سوال جھت اور مکان کے متعلق تھا  جیسا کہ فرقہ لامذہبیہ کہتا ہے  تو ان اسلاف  کا کیا بنے گا جو  تقریباً 95 ٪ سے زیادہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ مکان و جھت سے پاک ہے۔
ملاحظہ ہو