غیرمقلدین کے سولات کے جوابات

زیادہ دیکھی جانے والی

Monday, 7 August 2017

صفات متشابہات کی بحث حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحبؒ

صفات متشابہات کی بحث
استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ
http://www.farooqia.com/ur/lib/1434/02/p5.php
    فہرست   

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے او رحضرت کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھے۔ آمین۔ (ادارہ)
﴿ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء﴾ کے ذیل میں بعض علماء نے صفات متشابہات کی بحث چھیڑی ہے، اس مناسبت سے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ اختصار کے ساتھ نقل کیا جا رہا ہے، اس موضوع پر تفصیلی مباحث اور سلف صالحین کا تفصیلی موقف جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کریں۔”القول التمام بإثبات التفویض مذھباً للسّلف الکرام“ مؤلف سیف بن علی․

﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․
اہل سنت والجماعت کا اجتماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ زمان ومکان کی حدود سے اور سمت وجہت کی قیود سے پاک اور منزّہ ہے (ولا محدود ولا معدود، ولا یوصف بالماھیة ولا بالکیفیة، ولا یتمکن فی مکان (إذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھة، لاعلو ولاسفل ولا غیرھما) ولا یجری علیہ زمان، العقائد النسفیة، ص:43، مع شرح التفتازانی)

وہ عرش کا محتاج ہے نہ فرش کا، عرش وکرسی کے وجود میں آنے سے پہلے وہ جس شان میں تھا اب بھی اسی شان میں ہے ۔

البتہ جہاں تک بحث قرآن وحدیث کے ان الفاظ کے متعلق ہے جو الله تعالیٰ کے لیے عرش پر قرار پکڑنے:﴿ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾․ (الاعراف، آیت:54)اور چہرہ:﴿وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّک﴾․ (الرحمن، آیت:27)ہاتھ:﴿ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ﴾․ (الفتح، آیت:10)آنکھ: ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْْنِی﴾․ (طہ، آیت:39)پنڈلی:﴿یَوْمَ یُکْشَفُ عَن سَاق﴾․(القلم:42) وغیرہ ہونے پر دلالت کناں ہیں ، تو انہیں اسلاف نے صفات متشابہات قرار دے دیا ہے۔ کیوں کہ اگر انہیں حقیقی معنی پر محمول کیا جائے تو تجسیم وتشبیہ کی راہیں کھلتی ہیں اور اگر صرف تنزیہ وتجرید کے تقاضے ملحوظ رکھے جائیں تو انکارِ صفات کے پہلو نکلتے ہیں۔

فرقہ مجسمہ اور مشبہہ نے تو ان صفات کے حقیقی معنی مراد لے کر تجسیم وتشبیہ کی تمام منزلیں طے کر ڈالیں اور برملا یہ دعویٰ کر دیا کہ الله تعالیٰ بھی اس طرح ہاتھ ، پاؤں رکھتے ہیں جس طرح ایک مخلوق رکھتی ہے۔ (شرح المقاصد، المقصد الخامس، 37/3)

اور آسمان وزمین کی تخلیق کے بعد اسی طرح عرش پر بیٹھے ہیں، جس طرح ایک بادشاہ ملکی امور کی انجام دہی کے بعد تختِ شاہی پر فروکش ہوتا ہے۔

دوسری طرف تنزیہ وتجرید کے علم بردار معتزلہ، معطلہ جہمیہ نے مذکورہ صفات کو توحید باری تعالیٰ کے منافی قرار دے کر انہیں مجازی معنی پر محمول کیا اورپھر اسی کو حرف آخر اور حتمی بھی قرار دیا ہے۔ ( التمہید لابن عبدالبر،145/7)

افراط وتفریط کی اس کش مکش میں اہل سنت والجماعت ہی ایسا گروہ تھا جو اعتدال کی راہ پر گام زن رہا اور سلف صالحین کے نقش قدم پہ چل کر تعبیر وتشریح کے اس پیچیدہ مقام سے باسلامت گزر گیا۔

اہل سنت والجماعت کا مسلک
متقدمین سلف صالحین کا موقف: متقدمین سلفِ صالحین کا مسلک یہ ہے کہ جو صفات متشابہات قرآن وحدیث او راجماع امت سے ثابت ہیں ان کے متعلق بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ :

جو لفظ صفت باری پر دلالت کناں ہے اس کی نسبت الله تعالیٰ کی طرف ثابت ہے۔

اس لفظ سے اس کا ظاہری اور حقیقی معنی ہر گز مراد نہیں ۔

نیز ذات بار ی مخلوق کی مشابہات سے پاک ہے۔ (” نؤمن بأن الاستواء ثابت لہ تعالی( بمعنی یلیق بہ ھو سبحانہ اعلم بہ) کماجری علیہ السلف رضوان الله تعالیٰ علیہم فی المتشابہ من التنزیہ عمالا یلیق بجلال الله تعالیٰ مع تفویض علم معناہ إلیہ سبحانہ․“ المسایرہ شرح المسامرہ لابن الہمام، ص:45)․

” وانما یسلک فی ھذا المقام مذھب السلف الصالح، الأوزاعي والثوری واللیث بن سعد والشافعی وأحمد بن حنبل واسحاق بن راھویہ وغیرہم من أئمة المسلمین، قدیماً وحدیثاً، وھو إمرار،کما جاء ت من غیر تکییف ولا تشبیہ ولا تعطیل، والظاہر المتبادر إلی اذھان المشبھین منفی عن الله، فإن الله لا یشبہہ شيء من خلقہ․“ ( تفسیر ابن کثیر، الاعراف، تحت آیت: رقم:54)

یہ اہل سنت کا مسلمہ موقف ہے جس پر چندد لائل پیش خدمت ہیں۔

امام مالک رحمہ الله تعالیٰ کی مجلس میں ایک شخص نے ﴿الرحمن عَلَی الْعَرْش اسْتَوَی﴾ کی تلاوت کرکے یہی سوال اٹھایا کہ الله تعالیٰ کا استوا کیسا ہے ؟ امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے ایک لمحہ سوچ کر ارشاد فرمایا یہ استوا ایسا ہی ہے جیسا الله تعالیٰ نے آیت کریمہ میں اپنے بارے میں بیان فرما دیا ہے ۔ الرحمن ( یعنی صرف صفت استوی کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت ہے) اس کی کوئی کیفیت نہیں ( کیوں کہ یہ جسم کی خصوصیت ہے) اس لیے یہاں کیفیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (”فقال: (الرحمن علی العرش استوی، کما وصف بہ نفسہ․ ولا یقال کیف، وکیف عنہ مرفوع․“(الدرالمنثور، لابن الجوزی، الاعراف، تحت آیة رقم:54) (ھکذا فی کتاب الاسماء والصفات للإمام البیہقی، ص:408)

امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے اپنے جواب میں اہل سنت والجماعت کے موقف کی ترجمانی فرمائی ہے کہ استوی بار ی تعالیٰ کی متشابہہ المعنی صفت ہے، لہٰذا صفت استویٰ کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت کرکے اس کے معنی ومراد پر لب کشائی سے گریز کرنا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے اہل سنت استوی کی تشریح مایلیق بہ ( ایسا استوی جو اس کے شایان شان ہے) سے کر دیتے ہیں۔

امام ترمذی رحمہ الله اپنی سنن میں صفات متشابہات کے متعلق جمہور اہل سنت کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان صفات پر صدق دل سے ایمان لاکر اس کی کوئی تفسیر نہ کی جائے، بلکہ ایسا وہم بھی نہ لایا جائے جس سے تجسیم وتشبیہ کا اشارہ نکلتا ہو ، ائمہ اہل سنت سفیان الثوری، مالک بن انس، عبدالله بن المبارک وغیرہ سب کا یہی مسلک ہے ۔ (”والمذھب فی ھذا عند اھل العلم من الأئمة مثل سفیان الثوری ومالک ابن انس، وابن المبارک، وابن عینیة ووکیع وغیرہ… وھذا الذی اختارہ أھل الحدیث أن تروی ھذہ الأشیاء کما جاء ت ویؤمن بھا، ولا تفسر، ولا تتوھم، ولا یقال کیف…“․ (”سنن الترمذی، تحت حدیث، رقم:2557: مزید کتاب التفسیر سورہ المائدہ، رقم الحدیث:3045، باب ماجاء فی خلود)

قرآن وحدیث میں بارہا ید (ہاتھ) کا لفظ الله تعالیٰ کے لیے استعمال ہوا ہے، جس پر علامہ ابن حجر رحمہ الله نے فرمایا کہ اس (ید) سے وہ ہاتھ ہر گز مراد نہیں جس کا ذکر ہوتے ہی ہمارے دل ودماغ میں ایک جسمانی عضو کا تصور دوڑنے لگتا ہے ، بلکہ یہ ایک صفت باری تعالیٰ ہے ( جس کی نسبت باری تعالیٰ کے لیے ثابت ہے ) لہٰذا اس صفت پر ایمان لا کر توقف اختیار کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہی اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے ۔ (”ولیس الید عندنا الجارحة، إنما ھی صفة جاء بہ التوقیف، فنحن نطلقھا علی ماجاء ت، ولا نکیفھا، وھذا مذھب أھل السنة والجماعة․“ (فتح الباری لابن حجر، تحت حدیث رقم باب قول الله تعالیٰ: (تعرج الملٰئکة والروح إلیہ) رقم الحدیث:6993) امرارھا علی ماجاء ت مفوضا معناہ إلی الله تعالی… قال الطیبی: ھذا ھو المذھب المعتمد، وبہ یقول السلف الصالح․“ ( فتح الباری لابن حجر باب قول الله تعالیٰ ولتصنع علی عینی، رقم الحدیث:6972)

دیکھیے علامہ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ نے صفات متشابہات کے متعلق واضح فرما دیا ہے کہ یہ متشابہہ المعنی صفت ہے ، لہٰذا اس کی تلاوت پر اکتفا کرکے اس کے معنی ومراد کے درپے نہیں ہونا چاہیے۔

علامہ بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ الله اور سفیان بن عینیہ رحمہ الله کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :” کسی شخص کے لیے یہ روا نہیں کہ صفاتِ متشابہات کی تفسیر عربی یا عجمی زبان میں کرتا پھرے ۔ ان الفاظ کو پڑھ کر ان سے گزر جانا ہی بس ان کی تفسیر ہے۔“ ( ”ما وصف الله تبارک وتعالیٰ بنفسہ فی کتابہ فقرأتہ تفسیرہ، لیس لأحد أن یفسرہ بالعربیة ولابالفارسیة․“(کتاب الأسماء والصفات للبیہقی مع الھامش، ص:314)

علامہ بیہقی رحمہ الله فرماتے ہیں:متقدمین سلف صالحین استواء اوراسی جیسی تمام صفاتِ متشابہات کی کوئی تفسیر نہیں کرتے تھے۔“ ( ”فأما الاستواء فالمتقدمون من اصحابنا کانوا لایفسرونہ، ویتکلمون فیہ کنحو مذھبہم فی أمثال ذلک․“ (کتاب الأسماء والصفات للبیہقی، ص:407)

مذکورہ بالا دلائل سے متقدمین سلف صالحین کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ یہ صفات متشابہہ المعنی ہیں ، ان کے ظاہری معنی مراد لینا کسی طرح درست نہیں۔

متقدمین کے مسلک پر کچھ شہبات
پہلا شبہ: اگر صفات متشابہات ، استوی ، ید، وجہ وغیرہ کے ظاہری معنی اس لیے مراد نہیں لیے جاسکتے کہ اس سے جسمانیت کے پہلو سامنے آتے ہیں تو پھر محکم صفات علم ، قدرت ، حیات وغیرہ کا تصور بھی تو جسمانیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، انہیں بھی متشابہات قرار دیا جائے۔

جواب… اس شبہ کی یہ بنیاد ہی غلط ہے کہ محکم صفات ، علم، قدرت ، حیات کا تصور جسم کے بغیر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ان صفات کا اطلاق جب باری تعالیٰ پر کیا جاتا ہے تو اس کی اولین دلالت جسم پر نہیں ہوتی، بلکہ ان الفاظ کے کانوں میں پڑتے ہی جو معانی اخذ ہوتے ہیں اس میں تنزیہ وتجرید کے تقاضے پوری طرح جلوہ گر ہوتے ہیں اور دل ودماغ کے کسی گوشے میں جسم کا تصور نہیں ابھرتا، برخلاف صفاتِ متشابہات ، استواء ِید، وجہ، کے کہ ان الفاظ کی اولین دلالت ہی جسمانیت پر ہوتی ہے ۔ ان کے ظاہری معنی مراد لینے کے بعد جسمانی لوازم کو وہم وخیال سے دور نہیں رکھا جاسکتا، لہٰذا اگر متشابہات اور محکمات میں یہ فرق ملحوظ رکھاجائے تو اشکال پیدا ہی نہ ہو ۔

دوسرا شبہ: اگر متشابہات کے معنی مراد کا علم صرف الله تبارک وتعالیٰ کو ہے تو پھر ان کو قرآن کریم میں ذکر کرنے کیا فائدہ ہے ؟

جواب : اگرچہ ہمیں صفات متشابہات کے معنی ومراد کا علم نہیں، لیکن ان پر ایمان لانا بھی باعث نجات اور ثواب ہے ، علاوہ ازیں اس کی تلاوت کے بھی معنوی فوائد اوربرکات ہیں ،اگرچہ ان تک ہماری رسائی نہیں ہے۔

متاخرین اہل سنت والجماعت کا موقف
متأخرین سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ صفات متشابہات کے ایسے مجازی معنی بیان کیے جاسکتے ہیں جو الله تبارک وتعالیٰ کے شایان شان ہوں، بشرطے کہ:
اس لفظ کے اندر مجازی معنی مراد لینے کی گنجائش ہو۔
نیز اس مجازی معنی کو احتمال تفسیر کے درجے میں رکھا جائے، انہیں قطعی اوریقینی نہ کہا جائے۔

لہٰذا ”ید“ سے قدرت ، ”وجہ“ سے ذات اور استوا سے استیلا (غلبہ) مراد لیا جاسکتا ہے ۔ ( المسایرہ فی العقائد المنجیة فی الأخرة، ص:47,44)

تاویل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
چوں کہ متاخرین کے زمانے میں کئی فرقہائے باطلہ رواج پذیر ہو کر امت مسلمہ کی وحدت فکر کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف کار تھے ، جن میں سر فہرست مجسمہ او رمشبہہ ایسے فرقے تھے جو صفات متشابہات کے ظاہری الفاظ کا سہارا لے کر الله تعالیٰ کے لیے مخلوق کی طرح ہاتھ ، پاؤں، چہرہ، پنڈلی وغیرہ ثابت کرتے تھے۔

متاخرین سلف صالحین نے جب دیکھا کہ یہ فرقہائے باطلہ عوام کی ذہنی سطح سے غلط فائدہ اٹھا کر انہیں گم راہی کی طرف دھکیل رہے ہیں تو انہوں نے تاویل کا مسلک اختیارکرکے تمام متشابہات کے مناسب ، سادہ عام فہم معانی بیان کیے، مثلاً کہا ید سے ہاتھ نہیں قدرت مراد ہے، وجہ سے چہرہ نہیں بلکہ ذات مراد ہے، استوی سے استقرار وجلوس نہیں بلکہ استیلا اور غلبہ مراد ہے، تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کومجسمہ اور مشبہہ کے گم راہ کن خیالات سے بچایا جاسکے۔

مسلکِ تاویل کی بنیاد کی وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا﴾․ (آل عمران:7)

اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میںإ لا الله پر وقف نہیں ہے، اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہو گا اور آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے ۔ متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے۔ ( المسامرہ مع شرحہ المسایرہ ص:45، بیروت)

متاخرین کے مسلک پر کچھ شبہات او ران کا ازالہ
پہلاشبہ: امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله نے فقہ اکبر میں تصریح فرمائی ہے کہ ”ید“ سے قدرت یا نعمت مراد لینا جائز نہیں، کیوں کہ اس طرح تاویل کرنے سے صفت باری تعالیٰ کاابطال لازم آتا ہے۔ (فماذکرہ الله تعالیٰ فی القرآن من ذکر الوجہ، والید، والنفس فہو لہ صفات بلاکیف ولایقال: إن یدہ قدرتہ أو نعمتہ، لأن فیہ ابطال الصفة وھو قول اھل القدر والا عتزال․“ (الفقہ الأکبر مع شرحہ للملا علی القاری، ص:67)

دیکھیے امام صاحب تو تاویل کے مسلک کو ناجائز قرار دے رہے ہیں ، لیکن ان کے مقلدین اسی مسلک کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہیں، یہ امام صاحب کے مسلک سے انحراف نہیں ہے؟

جواب: اگر فقہ اکبر کی مکمل عبارت پڑھ لی جاتی تو اشکال پیدا نہ ہوتا، کیوں کہ امام صاحب نے صفات متشابہات میں اس تاویل کو ناجائز فرمایا ہے جسے قطعیت کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہو ، جس کے نتیجے میں صفات کے اصل کلمات بے معنی ہو کر رہ جائیں ، چوں کہ ایسی تاویل معتزلہ وغیرہ کرتے ہیں ، اس لیے امام صاحب نے ان کی تردید فرمائی ہے ، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اس عبارت کے متصل بعد ہی امام صاحب نے فرمایا ”وھو قول اھل القدر والاعتزال“ یعنی صفات میں تاویل کرکے اسے قطعی سمجھنا معتزلہ اور قدریہ کا مسلک ہے ۔

جہاں تک اہل سنت والجماعت کی بات ہے وہ جب کسی لفظ کی تاویل کرتے ہیں تو اس سے ایسے معنی مراد لیتے ہیں۔
جس کا وہ لفظ احتمال بھی رکھتا ہو ۔
لفظ کے اصل معنی کی نفی بھی نہ ہوتی ہو ۔
اور وہ تفسیر ظن اور احتمال کے درجے میں ہو۔
مثلاً آیت کریمہ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُون﴾ کا معنی یہ ہے کہ جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ لیکن صوفیا اس کی تفسیر عمومی معنی میں کرتے ہیں ”جو ہم نے ان کومال وعلم دیا ہے “ یہاں علم مراد لینے سے مال کی نفی نہیں ہوتی، اسی طرح ید سے قدرت ونعمت اور وجہ سے ذات مراد لینے سے بھی لفظ کے اصل معنی ہاتھ اور چہرے کی نفی نہیں ہوتی۔ اہل سنت والجماعت اور فرقہائے باطلہ میں یہی بنیادی فرق ہے، چناں چہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ الله تعالی فرماتے ہیں:

” اعتراض ہوتا ہے کہ جس طرح گروہ اشاعرہ، ماترید یہ تاویلات کرتے ہیں ، معتزلہ او رجہمیہ بھی تاویلات کرتے ہیں ان میں او ران میں کیا فرق ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں کی تلاویلات میں فرق یہ ہے کہ اشاعرہ ماتریدیہ تاویلات پر جزم نہیں کرتے، برخلاف معتزلہ وغیرہ کے کہ وہ تلاویلات کرتے ہیں او رکہتے ہیں بس یہاں یہی معنی مراد ہیں ۔(معارف مدنیہ ، ص:47)

دوسرا شبہ: علامہ تفتازانی رحمہ الله تعالی، شرح عقائد نسفیہ میں لکھتے ہیں کہ صفات باری تعالی کے متعلق اشاعرہ اور ماتریدیہ کا موقف یہ ہے کہ ہر ہر صفت اپنے معنی ومراد کے اعتبار سے دوسری صفت کے مقابلے میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے، کسی بھی صورت میں دو صفات کوہم معنی اور مترادف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ (ولہ صفات لما ثبت من أنہ تعالیٰ عالم، قادر، حي إلی غیر ذلک، ومعلوم أن کلا من ذلک یدل علی معنی زائد علی مفہوم الواجب، ولیس الکل الفاظ مترادفة“․ (شرح العقائد النسفیة للتفتازنی، ص:48)

لہٰذا مذکورہ موقف کی روشنی میں ید اور استویٰ کو ایک معنی زائدہ پر دلالت کناں ہونا چاہیے، انہیں نعمت وقدرت یا استیلاء وغلبہ کے ہم معنی قرار دینا خود تمہارے اپنے موقف کی رو سے بھی درست نہیں ہے۔

جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ تمیزِ صفات کا مذکورہ موقف محکم صفات ( علم قدرت ، سمع، بصر) کے متعلق ہے نہ کہ صفات متشابہات کے متعلق ، علامہ تفتازانی رحمہ الله تعالیٰ نے بھی محکم صفات کے ضمن میں اس موقف پر روشنی ڈالی ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ جب صفات متشابہات ، ید اور استویٰ سے نعمت اور استیلا وغلبہ مراد لیتے ہیں تو اسے معنی مجاز قرار دیتے ہیں، نہ کہ مترادفات اور مجازی معنی کا استعمال تو عرف اور لغت سے ثابت ہے ۔

چناں چہ ایک شاعر ”استویٰ“ کو بطور مجاز غلبے سے تعبیر کرتے ہوئے کہتا ہے #
        قد استوی بشر علی العراق
                                            (المسامرة، ص:46)

تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا ہے ( بشر ایک شخص کا نام ہے) ۔

اسی طرح ید سے بطور مجاز نعمت مراد لیتے ہوئے ایک شاعر نے کہا ہے #
        إلیک یديَّ منک الأیادی تمدّھا
( ”إلیک یدی منک الأیادی تمدھا، قال شارحہ: المراد بالید ھنا الجارحة، والأیادی جمع ید بمعنی النعمة فالمعنی الأیادي الفائضة من حضرتک حملتنی علی مد یدی الیک فی طلب المسئول وبغیة المأمول․“(شرح کتاب الفقہ الأکبر، ص:67)

”تیری نعمتوں کا فیض ہی مجھے تمہاری طرف ہاتھ پھیلانے پر مجبورکرتا ہے ، مذکورہ شعر میں ”الأیادی“ سے نعمتیں مراد ہیں اگر ان صفاتِ متشابہات کو مجازی معنوں پر محمول نہ کیا جائے، بلکہ وہ ظاہری معنی مراد لیے جائیں جسے آپ زائد معنی سے تعبیر کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ کھلی ہوئی تجسیم پر دلالت کناں ہیں، اس لیے اہل سنت والجماعة نے اس تعبیر سے گریز فرمایا ہے۔

تیسرا شبہ: کیا تاویل کرنا بدعت ہے؟
غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کا صفات باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہے ؟ اس پر تفصیلی گفت گو تو چند صفحات آگے آرہی ہے ۔ لیکن یہاں سردست ان کے اس اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کی آڑ میں یہ اہل سنت والجماعت کو اپنی تحریر وتقریر پر جا بجا مطعون کرتے ہیں ، ان کا دعوی یہ ہے کہ صفات متشابہات کی تاویل کرنا بدعت اور ناجائز ہے، چوں کہ اشاعرہ․ (واضح رہے کہ اشاعرہ کا اطلاق بطور اصطلاح اہل سنت والجماعت کے دونوں گروہ اشاعرہ اور ماتریدیہ پر ہوتا ہے ، واصطلح المتأخرون علی تسمیة الفریقین بالأشاعرة تغلیبا․ ( النبراس، ص:22، امدادیہ ملتان) نے اپنے مسلک کی بنیاد تاویل پر رکھی ہے، لہٰذا ان کے بدعتی اور گم راہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ (”القول بالمجاز قول مبتدع․“ (الصواعق المرسلة ص:233، بیروت) ”وطریقی التفویض والتاویل فی باب الصفات مسلکان باطلان․“ (حاشیة علی فتح الباری زھیر شاویش، کتاب التوحید، باب قول النبی صلی الله علیہ وسلم: لاشخص اغیر من الله: 493/13)

جواب: غیر مقلدین کا مذکورہ اشکال چند وجوہ سے درست نہیں ہے ۔

متاخرین سلف صالحین کے مسلک تاویل کی بنیاد وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ﴾․ (آل عمران:7)

اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میں ﴿إلا الله﴾ پر وقف نہیں ہے ۔ اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے۔ (المسامرہ مع شرحہ المسایرہ، ص:45، بیروت) متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے جب ایک چیز کا شرعی جواز موجود ہو تو اسے بدعت کیسے کہا جاسکتا ہے؟

نیز متشابہات کی تاویل صحابہ کرام، تابعین، سلف صالحین سے بھیمنقول ہے ، کیا ان مبارک ہستیوں سے بدعت کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ذیل میں ان کی تلاویلات کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجیے ۔

رئیس المفسرین حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے سند صحیح کے ساتھ منقول ہے کہ انہوں نے ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ میں ”ساق“ کی تاویل ”شدت“ سے فرمائی ۔ (” وأما الساق فجاء عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ: ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ : قال عن شدة الأمر․ (فتح الباری، باب: قول الله تعالیٰ: وجوہ یومئذٍ ناضرة إلی ربھا ناظرة․ الحدیث الثالث رقم:7436) تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

بلکہ آپ تو مقطعات کی بھی تاویل فرمایا کرتے تھے۔ ( العرف الشذي، 496/1، بیروت)

علامہ ابن جریری طبری رحمہ الله ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم اور تابعین رحمہم الله کی ایک جماعت نے ساق کی تاویل ”شدت امر“ سے کی ہے۔(تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما حضرت قتادہ ، حضرت مجاہد حضرت سفیان ثوری رحمہم ا الله نے آیت کریمہ: ﴿والسماء بنینا ھا بأید وإنا لموسعون﴾ میں ”بأید“ کی تاویل قوت سے فرمائی ہے ۔ (تفسیر ابن حبریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:47)

حضرت امام مالک رحمہ الله تعالیٰ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیاگیا جس میں نزول الہی کا ذکر ان الفاظ میں ہے کہ الله تعالیٰ رات کو دنیا کے قریبی آسماں پر نزول فرماتے ہیں ، آپ نے فرمایا اس سے امر اور حکم مراد ہے کہ حکم الہی نازل ہوتا ہے۔ دیکھیے! امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے نزول الہی کی تاویل نزول حکم الہی سے فرمائی۔ ”قال حدثنا مطرف عن مالک بن انس أنہ سئل عن الحدیث ”إن الله ینزل فی اللیل إلی سماء الدنیا“ فقال مالک: یتنزل أمرہ․“ (التمہید لابن عبدالبر، 143/7)

امام احمد بن حنبل رحمہ الله تعالیٰ کے بھتیجے سے مروی ہے کہ امام صاحب نے ﴿وجاء ربک﴾ (اور آیا آپ کا رب) کی تاویل وجاء ثوابہ ( اور آیا رب کا ثواب ) سے فرمایا ۔

امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سند پر کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ (”رواہ البیہقی عن الحاکم عن ابی عمر بن السماک عن احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تأول قول الله تعالیٰ:﴿ وجاء ربک﴾: أنہ وجاء ثوابہ․ “ … ھذا سند لاغبار علیہ․“ (البدایة والنہایة،327/10)

حقیقت یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں الفاظ کی ظاہری دلالت سے قطع نظر کرکے مجاز واستعارے کی آڑ لی جاتی ہے اور چاروناچار تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب تک اس اندازِ بیان کی توجیہ مجاز کی روشنی میں نہ کی جائے تو افہام وتفہیم کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً قرآنِ کریم میں ہے ﴿کُلُّ شَیْْء ٍ ہَالِکٌ إِلَّا وَجْہَہُ﴾․ (القصص، آیت:88)

ترجمہ: ہر چیز کو فنا ہے مگر اس کا منھ ( ذات) ۔اگر یہاں وجہ منھ کی تاویل ذات سے نہ کی جائے تو پھر آیت کریمہ کا صاف صاف مطلب یہ ہو گا الله تعالیٰ کے ید ، قدم، ساق ( جنہیں غیر مقلدین الله کے عضو تسلیم کرتے ہیں) فنا اور زوال پذیر ہو جائیں گے ، صرف باری تعالیٰ کا چہرہ ہی قائم ودائم رہے گا۔ چناں چہ اس مقام پر خود غیر مقلدین تاویل وتعبیر کی ضرورت سے بے نیاز نہ رہ سکے او ران کے لیے وجہ کی تاویل ذات سے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا ۔ ( تفسیر جونا گڑھی ، القصص، تحت آیہ رقم:88)

اسی طرح قرآن کریم میں آیت کریمہ ہے ﴿قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَأَتَی اللّہُ﴾․ (النحل:26)

البتہ دغا بازی کرچکے ہیں جو تھے ان سے پہلے، پھر پہنچا حکم الله کا میں فأتی الله کی تاویل فأتی عذاب الله (الله کا عذاب آیا) سے کرتے ہیں ۔ (تفسیر جونا گڑھی ، النحل ،تحت آیہ رقم:26)

قرآن وحدیث میں کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جہاں غیر مقلدین نے تاویل واستعارے سے بلاجھجک کام لیا ہے۔ اگر تاویل بدعت ہے تو اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، پھر اشاعرہ پر ہی الزام تراشی کیوں؟

خلاصہ یہ ہے کہ : متقدمین کے نزدیک یہ صفات ، ید، وجہ ، استوی متشابہہ المعنی ہیں۔صفات متشابہات کے لغوی معنی تحت اللفظ کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح اور وضاحت معروف فی الخلق سے نہیں کرسکتے، اگر ان صفات کو معروف معانی کے ساتھ الله تعالیٰ کے لیے ثابت کریں تو اس سے تجسیم لازم آتی ہے اور کیفیت کی جہالت سے ہم تجسیم سے نہیں نکل سکتے۔ متاخرین نے اہل بدعت کے بڑھتے ہوئے فروغ کی روک تھام کے لیے مسلک تایل اختیار کیا او رتمام متشابہات کی مناسب تاویلات کیں او ران تلاویلات کا شرعی جواز موجود ہے۔ متاخرین سلف صالحین سے ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ کی کئی تاویلیں منقول ہیں، تاہم مشہور تاویل یہ ہے۔

اسْتَوَی سے غلبہ وقبضہ مراد ہے اورالعرش تخت کو کہتے ہیں۔ اور﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾الله تبارک وتعالیٰ کے کائنات پرمکمل قبضہ وقدرت اور اس کے حاکمانہ تصرف سے تعبیر ہے کہ کائنات کی کوئی چیز او رکوئی گوشہ اس کے قبضہ قدرت اور تصرفات سے باہر نہیں۔(تفسیر رازی، الاعراف، تحت آیہ رقم:54۔مزید تاویلات کے لیے دیکھیے: تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی، اللباب فی علوم الکتاب، الاعراف تحت آیہ رقم:54)

اہل سنت والجماعت اشاعرہ اور ماترید یہ کے مجموعے کا نام ہے۔ ( ”وھؤلاء الحنفیة والشافعیة والمالکیة وفضلاء الحنابلة ولله الحمد فی العقائد ید واحدة کلھم علی رأي أھل السنة والجماعة، یدینون الله تعالیٰ بطریق شیخ السنة أبی الحسن الأشعریی رحمہ الله تعالی․“ ( معید النعم ومبید النِقم للسبکی، ص:62) ””اذا أطلق أھل السنة والجماعة فالمراد بھم الأشاعرة والماتریدیة․“ (اتحاف السادة المتقین شرح احیاء علوم الدین للغزالی:8/2، بیروت)

امت کے اس عظیم حصے کو او ران سے وابستہ محدثین کرام، فقہائے عظام کو بدعتی اور گم راہ کہنے والا شخص خود گم راہ اور بدعتی ہے۔
 (جاری)

Friday, 24 June 2016

تعریفات

تعریفات
مکان
1. مشهور لغوي عالم امام أبو القاسم الحسين بن محمد المعروف بالراغب الأصفهاني اپنی کتاب (المفردات في غريب القرءان) میں فرماتے هیں کہ
(المكان عند أهل اللغة الموضع الحاوي للشيء)
یعنی مکان أهل اللغة کے نزدیک اس جگہ کوکہتے هیں جوکسی چیزکوحاوی ( گھیرا ہوا ) هو ۔
2. مشهور لغوي عالم علامہ مجد الدين محمد بن يعقوب الفيروزءابادي صاحب القاموس اپنی کتاب (القاموس المحيط ) میں فرماتے هیں کہ
(المكان: الموضع، ج: أمكنة وأماكن)
یعنی مکان جگہ کوکہتے هیں اورأمكنة وأماكن اس کی جمع ہے ۔
3. العلامة كمال الدين أحمد بن حسن البياضي الحنفي (إشارات المرام)میں فرماتے هیں کہ
(المكان هو الفراغ الذي يشغله الجسم )
یعنی مکان اس خالی جگہ کوکہتے هیں جس کوجسم گھیرتا ہے ۔
4. الشيخ يوسف بن سعيد الضفتي المالكي فرماتے هیں کہ
( قال أهل السنة: المكان هو الفراغ الذي يحل به الجسم)
یعنی مکان وه خالی جگہ ہے جس میں جسم سماتا ہے ۔
5. الحافظ المجدث الفقيه اللغوي الحنفي السيد مرتضى الزبيدي اپنی كتاب (تاج العُروس ) میں فرماتے هیں کہ
(المكان: الموضع الحاوي للشيء)
یعنی مکان وه جگہ هوتی ہے جوکسی چیزکوحاوی هو۔
یہ چند اقوال تو مـكـان کی تعریف سے متعلق تھے ۔
جھت
چند اقوال جــِـهـَــة کی تعریف کے متعلق ملاحظہ کریں ۔
1. الامام اللغوي الشيخ محمد بن مكرم الإفريقي المصري المعروف بابن منظورعلم نحو وصرف وادب ولغت عرب کے مشہور ومستند عالم هیں اپنی مشهور کتاب ( لسان العرب ) میں فرماتے هیں کہ
(والجهة والوِجْهة جميعاً: الموضع الذي توجه إليه وتقصده)
یعنی جــِـهـَــة اور وِجـــهـَــة سب اس جگہ کوکہتے هیں جس کی طرف تو متوجہ هو اورجس کا توقصد واراده کرے ۔
2. علامہ مجد الدين محمد بن يعقوب الفيروزءابادي صاحب القاموس اپنی کتاب (القاموس المحيط ) میں فرماتے هیں کہ
( والجهة: الناحية، ج: جهات)
اور جــِـهـَــة کہتے هیں کنارے وطرف کو جمع اس کی جهات ہے ۔
3. علامہ الشيخ عبد الغني النابلسي فرماتے هیں کہ
(والجهة عند المتكلمين هي نفس المكان باعتبار إضافة جسم ءاخر إليه)
اورجــِـهـَــة متکلمین کے نزدیک مکان هی ہے اس کی طرف دوسرے جسم کے اضافہ کے اعتبار سے ۔
4. العلاّمة كمال الدين أحمد بن حسن المعروف بالبياضي فرماتے هیں کہ
والجهة اسم لمنتهى مأخذ الإشارة ومقصد المتحرك فلا يكونان إلا للجسم والجسمانيّ، وكل ذلك مستحيل ـ أي على الله ـ اهـ

Saturday, 21 May 2016

القواعد فی العقائد مسئلہ السماء والصفات مولانا الیاس گھمن صاحب

ٹیکسٹ فائل ڈاؤنلوڈ کیجئے

پر ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کیجئے

القواعد فی العقائد

از افادات: متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن حفظہ اللہ


سرپرست:  مرکز اہل السنۃ والجماعۃ، 87 جنوبی، لاہور روڈ، سرگودھا
بانی و امیر:  عالمی اتحاد اہل السنت والجماعت
چیف ایگزیکٹو:  احناف میڈیا سروسز
چئیرمین:  احناف ٹرسٹ
www.ahnafmedia.com

اَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ؁
﴿وَالْعَصْرِ؁  اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ؁ اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ؁﴾
زمانے کی قسم بے شک وہی انسان کامیاب ہے جس کا عقیدہ درست ہو،عمل سنت کے مطابق ہو،صحیح عقیدہ اور سنت عمل کی تبلیغ واشاعت بھی کرتاہو اور اگر اس تبلیغ واشاعت پر مصائب وپریشانیاں آئیں تو ان پر صبر بھی کرتا ہو۔

شریعت کے اجزاء:

شریعت کے دو جزو ہیں:
اعتقادی اور عملی:
            اعتقاد اصل ہے ، عمل فرع ہے ۔ صحیح اعتقادکے بغیر آخرت کے عذاب سے نجات ممکن نہیں جبکہ عملِ صالح کے بغیر نجات کی امید ہے، البتہ معاملہ اللہ تعالی کی مشیت کے سپر دہے۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو اپنی رحمت سے معاف فرما دیں اور چاہیں تو قانونِ عدل سے سزاد یں ۔ عقیدہ ایک بھی خراب ہو تو اسلام کی ساری عمارت خراب ہو جاتی ہے ۔
اِنَّ الْعَقَائِدَ کُلَّھَا اُسٌّ لِّاِسْلَامِ الْفَتٰی
اِنْ ضَاعَ اَمْرٌوَّاحِدٌ مِّنْ بَیْنِھِنِّ فَقَدْ غَوٰی

ترجمہ :      ’’تمام عقائد انسان کے اسلام کی بنیاد ہیں، اگر ان میں سے ایک چیز بھی ضائع ہو جائے تو انسان گمراہ ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
خِشْت اول چوں نہد معمار کج
تا  ثریا   می رود  دیوار کج

ترجمہ:     ’’اگر معمار پہلی اینٹ کو ٹیڑھا رکھے تو دیوار ثریا ستارے تک ٹیڑھی جاتی ہے۔‘‘
فائدہ:    شریعت کے بنیادی اجزاء دو ہی ہیں؛ عقائد اور اعمال۔ایک تیسری چیز ــ’’ــخلق‘‘ ہے،یہ دراصل نظریات کا حصہ ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ اعمال ہوتے ہیں، گویا’’ خلق‘‘ نظریات سے الگ نہیں اور شریعت کے اجزاء کو دو میں تقسیم کرنا اس معنیٰ میں درست ہے۔

خلق کی تعریف:

            باطن کی وہ کیفیت جو انسان کو عمل پر برانگیختہ کرے اسے’’ خلق ‘‘کہتے ہیں۔اگر کیفیت اچھی ہو تو اعمال اچھے اور اگر کیفیت بری ہوتو اعمال بھی برے۔
مثالیں ۱:’’حیاء‘‘ باطنی کیفیت ہے جو کہ’’ خلق‘‘ ہے اور’’ غضِ بصر‘‘ اس کا نتیجہ ہے ،جو کہ’’ عمل‘‘ ہے ۔
۲:’’سخاوت‘‘ باطنی کیفیت ہے جو کہ’’ خلق‘‘ ہے اور’’ انفاق‘‘ اس کا نتیجہ ہے، جو کہ’’ عمل ‘‘ہے۔
۳:’’شجاعت‘‘ باطنی کیفیت ہے جو کہ ’’خلق ‘‘ہے اور ’’قتال ‘‘اس کا نتیجہ ہے، جو کہ ’’عمل ‘‘ہے۔
فائدہ:    جس علم میں عقائد سے بحث ہو اسے ’’علم العقائد ‘‘ کہتے ہیں اور جس میں اعمال اور احکام سے بحث ہو اسے ’’علم الفقہ ‘‘کہتے ہیں۔

عقیدہ اور عمل میں فرق:

فرق نمبر ۱:عقیدہ اصل ہے اور عمل فرع ہے، جو فرق اصل اور فرع میں ہے وہ عقیدہ اور عمل میں ہے۔چنانچہ عقیدہ کی مثال عدد کی ہے جو اصل ہے اور عمل کی مثال صفرکی ہے جو کہ فرع ہے ۔عدد اور صفر میں چند فرق ہیں۔
۱:           عدد ایک بھی ہو تو قیمتی ہے اور صفریں دس بھی ہوں تو قیمت کچھ  بھی نہیں۔
۲:          ایک عدد کے ساتھ صفر لگاؤ تو دس،دو صفریں لگاؤتو سو……الخ، عددآیا تو صفر کی قیمت بن گئی اور صفر کے آنے سے عدد کی قیمت بڑھ گئی۔ تو عقیدہ آنے سے عمل کی قیمت بنتی ہے اور عمل آنے سے عقیدہ کی قیمت بڑھتی ہے۔
۳:         صفر کو دائیں کی بجائے عدد کے بائیں جانب لگائیں تو قیمت نہیں بڑھتی ،اسی طرح عمل کی قیمت بھی اس وقت ہوتی ہے جب اپنے مقام پر ہو،اگر مقام بدل جائے تو عمل بے قیمت ہوجاتاہے۔ مثلاً دعاء اگر نماز جنازہ کے فورا بعد مانگیں تو بے قیمت ہے اور اگر دفن کے بعد قبر پر مانگیں تو مقبول ہے، کیونکہ اپنے مقام پر ہے۔
فرق  نمبر۲:عقیدہ کا محل ’’دل ‘‘اور اعمال کا محل ’’بدن‘‘ ہے، جو فرق دل اور بدن میں ہے وہی عقیدہ اور عمل میں ہے اور یہ دو فرق ہیں:
۱:جو چیز جتنی قیمتی ہو اس کے رکھنے کا محل بھی اتنا محفوظ ہوتاہے اور جو اس سے نسبتًا کم ہو اس کے رکھنے کا محل بھی نسبتًا کم محفوظ ہوتاہے۔عقیدہ چونکہ زیادہ قیمتی تھا اس کا محل دل کو بنایا،عمل نسبتاً کم قیمتی تھا اس کا محل اعضاء بدن کو بنایا۔
۲:اعضاء جسم میں سے بعض کٹ جائیں تو بندہ زندہ رہتاہے اور قلب کے بعض اجزاء کٹ جائیں تو بندہ مر جاتاہے، اسی طرح اگر کچھ اعمال چھوٹ جائیں تو بندہ با ایمان ہوتاہے اگرچہ فاسق ہے،لیکن اگر بعض عقائد ختم ہوجائیں تو ایمان ختم ہوجاتاہے اور بندہ کافر ہوجاتاہے۔
فائدہ:     علم العقائد کا نام’’ علم الکلام‘‘ بھی ہے، یا تو اس وجہ سے کہ علم الکلام میں زیادہ تر بحث کلام باری تعالیٰ سے ہوتی ہے یا اس وجہ سے کہ علم الکلام میں جب بھی کسی مسئلہ پر بحث ہوتی ہے تو متکلمین کہتے ہیں’’اَلْکَلَامُ فِیْ کَذَا‘‘

ائمہ علم الکلام

مشہور ائمہ علم الکلام دو ہیں:

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل الا شعری الحنبلیؒ :

            آپ ؒحضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی اولاد میں سے تھے،  260ہجری میں پیدا ہوئے، بچپن میں والد کا انتقال ہو گیا ‘بعد میں ان کی والدہ کانکاح مشہور معتزلی ’’ابو علی جُبَّائی ‘‘(م 303ھ) سے ہو گیا۔ آپ نے’’فن مناظرہ اور علم الکلام‘‘ ابو علی جُبَّائی کی تربیت میں رہ کر حاصل کیا لیکن نہایت سلیم الطبع اور سلیم الفطرت ہونے کی وجہ سے معتزلہ کی رکیک اور بعید از عقل تاویلات کی وجہ سے مسلک اہل السنت والجماعت کو قبول کیا اور تاحیات عقائد اہل السنت والجماعت کے اثبات اور معتزلہ کی تردید میں دلائل دیتے رہے۔ فروع میں امام احمد بن محمد بن حنبل ؒ کے مقلد تھے۔ تین سو(300) کے قریب کتب تصنیف فرمائیں جیسا کہ امام الزرکلیؒ نے الاعلام 69/5میں ذکر کیا ہے۔ چند مشہور کتب یہ ہیں:
الفصول ، الموجز ، کتاب فی خلق الاعمال ، کتاب فی الاستطاعۃ ، کتاب کبیر فی الصفات ، کتاب فی جواز رؤیۃ اللّٰہ بالابصار ، کتاب فی الرد علی المجسمۃ ، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، کتاب فی الرویۃ، مختصر مدخل الی الشرح والتفصیل وغیرہ۔ آپؒ نے 324ہجری میں انتقال فرمایا۔

امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی الحنفیؒ:

            آپؒ ماوراء النہر سمر قند کے ایک گاؤں ’’ماترید‘‘ میں پیدا ہوئے۔ معتزلہ کا شدت کے ساتھ رد کرنے کی وجہ سے ابو الحسن اشعریؒ کے بعض وہ افکار جن کا دفاع کرنا ادلہ شرعیہ کی روشنی میں مشکل تھا،کی اصلاح فرمائی اور معتزلہ کی تردید اور اہل السنۃ والجماعۃ کے افکار کی تائید میں راہِ اعتدال اختیار فرمائی۔فروع میں امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مقلد تھے ۔’’تاویلات اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ کے نام سے قرآن پاک کی ایک تفسیر بھی تحریر فرمائی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تصنیف فرمائیں ،جن میںکتاب التوحید ، کتاب رد اوائل الادلۃ للکعبی ، کتاب بیان وھم المعتزلۃ ، کتاب المقالات ، کتاب رد و عید الفساق للکعبی، کتاب رد تہذیب الجدل ، کتاب رد الاصول الخمسہ للباھلی ، کتاب رد الامامۃ لبعض الروافض، کتاب الرد علی اصول القرامطۃ، کتاب الجدل وغیرہ  شامل ہیں۔ آپ محدث زمانہ امام طحاویؒ کے ہم عصر تھے ۔ 333ہجری میں وفات پائی ۔
فائدہ:     اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مابین لگ بھگ تیس یا پینتیس مسائل میں اختلافات ہیں،ان میں سے اکثر اختلافات نزاع لفظی کی حیثیت رکھتے ہیں مثلاً:
1:          امام ابو الحسن اشعریؒ کے نزدیک صفت تکوین ،صفت قدرت کے تحت داخل ہے اور امام ابو منصورؒ کے نزدیک صفت تکوین مستقل ایک صفت ہے ۔
2:         اشعری ؒ  تکفیرِ اہلِ قبلہ سے احتراز کرتے ہیں‘  جبکہ ماتریدیہ اس  کے قائل ہیں۔ 
3:          اشاعرہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی چیز قبیح نہیں ہوتی اور ماتریدیہ کہتے ہیں کہ جس چیز کو عقل انتہائی قبیح سمجھے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہوتی ۔
4:         اشاعرہ کے ہاں اللہ تعالی کا فعل معلل بالغرض نہیں ہوتا جبکہ ماتریدیہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی تفضلاً مصلحت کی رعایت فرماتا ہے ۔
5:          اشاعرہ کہتے ہیں کہ ایسا فعل جس میں حکمت و مصلحت ہو مثلاً رسولوں کا بھیجنا وغیرہ‘ اس کا صدور اللہ تعالیٰ کی جانب سے واجب نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبیح چیز ہوتی ہی نہیں سب خیر و مصلحۃً ہوتی ہے تو وجوب کیسا؟ جبکہ ما تریدیہ (تفضلاً) وجوب کے قائل ہیں۔

(النبراس شرح شرح العقائد  ص 22)

فرقہ معتزلہ کی ابتداء:

            حضرت امام حسن بصری (م 110ھ) کی درس گاہ کے ایک شاگرد’’واصل بن عطاء‘‘ (م 131 ھ ) نے جب یہ موقف اختیار کیا کہ مرتکب کبیرہ (کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا)ایمان سے نکل جاتا ہے، مگر کفر میں داخل نہیں ہوتا،  تو امام حسن بصریؒ نے فرمایا:’’ھٰذَاالرَّجُلُ قَدِ اعْتَزَلَ عَنَّا‘‘(یہ شخص ہم سے جدا ہوگیا) اب جو شخص اس کی اتباع کرتا وہ خود کو معتزلی کہتا اور معتزلی کا معنی یہ لیتا کہ ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے باطل عقائد سے الگ ہیں ۔اسی وجہ سے تفسیرِکشاف کے مصنف جار اللہ زمخشری نے اپنی کنیت ’’ابو المعتزلہ‘‘ رکھی ۔     (النبراس مع شرح العقائد ص 20)

عقائد کی اقسام :

جو عقائد اہل السنۃ والجماعۃ کی کتب میں مذکور ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں:
1:          جو دلائل قطعیہ نقلیہ سے ثابت ہوں۔ ان کی تین قسمیں ہیں:
-i         جن کا ثبوت قرآن کریم کی ظاہری عبارت سے ہو   جیسے جنت ، جہنم وغیرہ ۔
-ii        جن کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بنقل تواتر ہو،خواہ تواتر لفظی ہو جیسے ختم نبوت یا تواتر معنوی ہوجیسے عذاب قبر وغیرہ۔ 
-iii      جن کا ثبوت اجماع امت سے ہو جیسے خلافت صدیق اکبرؓ وغیرہ۔
2:         جو دلائل عقلیہ سے  ثابت ہوں، اگرچہ ان کی تائید دلائل نقلیہ سے بھی ہو، جیسے ثبوت باری تعالیٰ، ثبوت نبوت، مسئلہ عصمتِ انبیاء علیہم السلام وغیرہ۔
3:          جو اخبار آحاد یا قرآن وحدیث سے بطریقِ استنباط ثابت ہوں جیسے قرآن کریم کا قدیم ہونا، فرشتوں پر انبیاء علیہم السلام کی فضلیت اور کراماتِ اولیاء کا برحق ہونا وغیرہ ۔

عقیدہ نمبر 1:         توحید باری تعالیٰ:
توحید باری تعالیٰ کے متعلق تین باتیں قابل فہم ہیں۔
1:          ذات ِباری تعالیٰ    2:    صفات ِباری تعالیٰ      3:        اسماءِ باری تعالیٰ

1:        ذاتِ باری تعالیٰ :

            ذات باری تعالی کے بارے میں پانچ بنیادی باتیں سمجھنا ضروری ہے۔
۱:           اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہے’’ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔‘‘ (سورۃ اخلاص:1)
۲:          اول و آخر ہے ’’ھُوَ الْاَوَّلُ وَ الْآخِرُ‘‘ (سورۃ حدید:2)
فائدہ:     اول سے مراد حقیقی اول ہے جس کے لئے ابتداء نہیں اور آخر سے مراد حقیقی آخر ہے جس کے لئے انتہاء نہیں ۔
فائدہ:    قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی اول بھی ہیں اور نبی آخر بھی۔جیسے پرکار کو رکھ کر دائرہ لگایاجاتاہے تو جس نقطے پر پرکار کا سرارکھا جاتاہے اسے’’مرکز دائرہ‘‘ کہتے ہیں اور جو دائرے کا خط ہوتاہے اسے’’محیط دائرہ‘‘ کہتے ہیں۔مرکز دائرہ لگتا تو پہلے ہے لیکن ظاہر بعد میں ہوتاہے، اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء علیہم السلام’’محیط دائرہ نبوت‘‘ ہیں اور ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ’’مرکز دائرہ نبوت‘‘ ہیں۔ تو آپ علیہ السلام کا وجودِ نبوت سب سے پہلے تھا اور ظہورِ نبوت سب سے آخر میں ہے۔
۳:         اللہ تعالی کی ذات قدیم ہے کیونکہ اگر قدیم نہ مانیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عدم سے وجود میں آنے کے لیے وہ کسی ایسی چیز کے محتاج تھے کہ وہ ملی ہے تو وجود ملا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کائنات میں کسی چیز کے محتاج نہیں ۔
۴:         ’’[اَللّٰہُ تَعَالٰی] لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِّنَ الْجِھَاتِ السِّتِّ۔‘‘ (دفع شبہ التشبیہ لامام ابن الجوزی ص 107)
ترجمہ:      اللہ تعالی جسم سے پاک ہیں ،نہ جو ہر ہے، نہ عرض ، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کران کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کر سکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہاتِ ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ۔
۵:         اللہ تعالی موجود بلا مکان ہے ۔

2:       صفات باری تعالی:

صفات کی دو قسمیں ہیں :
[۱]:            محکمات                 [۲]:            متشابہات
صفات محکمات:   وہ ہیں جن کا معنی ظاہر اور واضح ہے مثلاً سمع ، بصر ، علم ، قدرت وغیرہ ۔
صفات متشابہات :  یہ وہ صفات ہیں جن کے معانی غیر واضح اور مبہم ہیں، عقل انسانی کی وہاں تک رسائی نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کی ذات کے لئے ید ، وجہ ، عین وغیرہ کلمات اللہ تعالی کی صفات متشابہات ہیں ۔

صفات محکمات کی اقسام :

صفات محکمات کی دو قسمیں ہیں:                1:صفات ذاتیہ                2:صفات فعلیہ

صفات ذاتیہ :

            جن کی ضد کے ساتھ اللہ تعالی موصوف نہ ہو سکے اور یہ سات ہیں:حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر ،کلام ۔
حیات :   اللہ تعالی کا ارشاد ہے:  ھُوَ الْحَیُّی الْقَیُّوْمُ (سورۃ بقرہ: 255)
فائدہ :     اللہ تعالی کی حیات ازلاً، ابداً وحیات کل شئی بہ مُؤبداً ہے ۔
سوال:     مماتی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوقبر میں زندہ ماننا شرک ہے کیونکہ اس سے اللہ کی صفت ’’حیی‘‘میں شراکت لازم آتی ہے کہ نبی بھی زندہ اور اللہ بھی زندہ۔
جواب:    شراکت لازم نہیں آتی ،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات اور اللہ کی حیات میں دو فرق ہیں:
۱:           نبی کی حیات ازلی نہیں ہے، ابدی ہے جب کہ اللہ تعالی کی حیات ازلی بھی ہے اور ابدی بھی ہے اور یہ ابدی حیات جنت میں ہر مسلمان کو حاصل ہو گی۔
۲:          نبی کی حیات انقطاع کے ساتھ ہے جبکہ اللہ کی حیات بغیر انقطاع کے ہے۔
علم :       اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔‘‘ (سورۃآل عمران: 29)
ترجمہ :     اللہ تعالیٰ جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے ، سب کچھ جانتا ہے ۔
قدرت: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ۔‘‘ (سورۃبقرہ:20)
ترجمہ :     اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں ۔
فائدہ:      قدرت کا تعلق’’ممکنات‘‘کے ساتھ ہوتا ہے ، واجبات و محالات کے ساتھ نہیں، کیونکہ واجب ومحال میں اپنے ماسویٰ کی تاثیر قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ‘جیسے سورج ہر چیز کو گرم کرتا ہے مگر وہ سنگ مرمر جس میں سورج کی تپش قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے وہ جون، جولائی میں دوپہر بارہ بجے بھی ٹھنڈا ہی رہتا ہے ۔ 
فائدہ:     واجب الوجود  وہ ہے جس کاوجود عقلاً لازم اور عدم محال ہو، جیسے ذات  و صفاتِ باری تعالیٰ اور محال وہ ہے جس کا وجود عقلاً نا ممکن ہو جیسے اجتماع نقیضین۔
ارادہ:     اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔‘‘ (سورۃبروج: 16)
ترجمہ:      اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے کر ڈالتا ہے ۔
سمع :      اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘ (سورۃبقرہ:256,224)
ترجمہ :     اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
بصر :      اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیٍٔ بَصِیْرٌ ۔‘‘(سورۃ ملک :19)
ترجمہ :      بے شک وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے ۔
کلام:    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ یٰمُوْسٰی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَبِکَلَامِیْ۔‘‘ (سورۃ اعراف :144)
ترجمہ :      اے موسیٰ ! میں نے اپنی پیغمبری اور ہم کلامی سے لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے ۔
فائدہ:      کلام اللہ تعالی کی وہ صفت ہے جو الفاظ اور حروف سے مرکب نہیں بلکہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ ازل سے قائم ہے جسے ’’کلامِ نفسی‘‘ کہتے ہیں اور کلام اصل میں ’’کلامِ نفسی‘‘ ہی ہوتا ہے ، کلام ِلفظی اس کلامِ نفسی پر دلالت کرتا ہے ۔
اِنَّ الْکَلَامَ لَفِی الْفُوَادِ وَاِنَّمَا

جُعِلَ اللِّسَانُ عَلَی الْفُؤَادِ دَلِیْلَا

ترجمہ :     کلام تو دل میں ہوتا ہے اور زبان کو دل (کی اس کلام ) پر دلیل بنایا گیا ہے ۔
کلامِ نفسی کو مخلوق تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے الفاظ اور حروف کا لباس عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالی کا کلامِ نفسی بھی قدیم ہے اور اس پر الفاظ و حروف کا لباس بھی قدیم ہے ، ہاں البتہ مخلوق کا اس کو قراۃ و کتابت کرنا حادث ہے ۔
صفات فعلیہ :       جن کی ضد کے ساتھ اللہ تعالیٰ موصوف ہو سکے لیکن اس کا تعلق اللہ کے غیر کے ساتھ ہو جیسے احیاء ، اماتت، اھداء، اضلال، اعزاز، اذلال وغیرہ ۔
فائدہ 1:    صفات باری تعالی قدیم ہیں جیسے ذات باری تعالی قدیم ہے۔ مثلاً جب مخلوق نہیں تھی اللہ تب بھی خالق تھے ‘اللہ کا خالق ہونا وجودِ مخلوق پر موقوف نہیں البتہ مخلوق کا وجود اللہ تعالی کے خالق ہونے پر موقوف ہے ۔ صفت خلق کا وجود اور ہے اور اس کا ظہور اور یعنی صفت خلق کا وجودمخلوق کے موجود ہونے سے پہلے تھا البتہ اس کا ظہورمخلوق کے وجود کے ساتھ ہوا ہے۔
فائدہ 2:               صفاتِ باری تعالیٰ عین ذات ہیں نہ غیر ذات ہیں؛ کیونکہ دو چیزوں کے مفہوم کا مصداق ہر اعتبار سے ایک ہو تو اسے ’’عین‘‘ کہتے ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بغیر ہو سکتا ہو تو اس کو ”غیر“ کہتے ہیں۔ صفات باری تعالیٰ عینِ ذاتِ باری اس لئے نہیں کہ صفت، ذات سے ایک زائد چیز کا نام ہے اور غیر اس لئے نہیں کہ صفت تابع اور موصوف متبوع ہوتا ہے ا ور تابع بغیر متبوع کے نہیں ہو سکتا اور ذات باری تعالیٰ صفات کے بغیر اس لئے نہیں کہ اللہ تعالی کا صفات کمال سے خالی ہونا لازم آئے گا اور یہ محال ہے۔

متشابہات کی اقسام :

1:          غیر معلوم المعنی وغیرمعلوم المراد جیسے حروف مقطعات ۔
2:         معلوم المعنی وغیر معلوم المراد جیسے: ثُمَّ اسْتَویٰ عَلیَ الْعَرْشِ  (سورۃ حدید؛4)
فائدہ: ’’المعنی‘‘ سے ’’لغوی معنی‘‘ اور ’’المراد‘‘ سے ’’مراد شرعی‘‘ مرادہے۔
فائدہ :     لغوی و اصطلاحی معنی کا مطلب:
لغوی معنی : لفظ کا اصلی معنی جو اہل زبان مراد لیتے ہیں۔
اصطلاحی معنی:          لفظ کا وہ معنی جو اہل زبان یا اہل علاقہ یا اہل فن مراد لیتے ہیں۔ مثلاً’’اَطْوَلُ یَدًا‘‘کا لغوی معنی ’’لمبے ہاتھ والا ہونا‘‘ہے، لیکن اہلِ زبان اس سے وصفِ سخاوت مراد لیتے ہیں ۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے فرمایا:
اَسْرَعُکُنَّ بِیْ  لِحَاقاً اَطْوَلُکُنَّ یَدًا  (صحیح مسلم: ج 2ص291 باب فضائل زینب ام المومنین رضی اللہ عنہا)
ترجمہ: میری وفات کے بعدتم میں سے سب سے پہلے اس بیوی کی وفات ہو گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔
اس سے مراد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں کیونکہ وہ سخاوت میں ممتاز تھیں ۔
فائدہ:قرآن کریم میں اللہ تعالی کی ذات کے لئے ید، وجہ ، عین، ساق، نفس وغیرہ کلمات استعمال ہوئے ہیں جو بظاہر صفتیں نہیں ہوتیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتے ہیں ان کے بارے میں تین موقف ہیں۔
موقف نمبر 1 :       متقدمین اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف ’’اَلتَّفْوِیْضُ مَعَ تَنْزِیْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَنْ مُّشَابَھَۃِ الْمَخْلُوْقَاتِ ‘‘ہے یعنی یہ کلمات صفات متشابہات ہیں،ان کلمات متشابہات کا معنی ہمیں معلوم نہیں، ہم ان کے معانی و مفاہیم کو اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہیں اس اعتقاد کے ساتھ کہ اللہ تعالی کے لئے ید ، عین، ساق وغیرہ صفات ثابت ہیں مگر مخلوق وغیرہ کی مشابہت سے پاک ہیں۔ چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہؒ  فرماتے ہیں :
’’فَمَا ذَکَرَ اللّٰہُ فِی الْقُرْآنِ مِنْ ذِکْرِ الْوَجْہِ وَالْیَدِ وَالْعَیْنِ فَھُوَ لَہٗ صِفَاتٌ وَلَا یُقَالُ اِنَّ یَدَہٗ قُدْرَتُہٗ اَوْ نِعْمَتُہٗ لِاَنَّ فِیْہِ اِبْطَالَ الصِّفَۃِ وَھُوَ قَوْلُ اَھْلِ الْقَدْرِوَالْاِعْتِزَالِ وَلٰکِنْ یَدُہٗ صِفَتُہٗ بِلَا کَیْفٍ ۔‘‘ (الفقہ الاکبر مع الشرح  ص 37,36)
ترجمہ:     اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو ’’وجہ ، ید اور عین‘‘ کا ذکر کیا ہے  تو یہ اللہ کی صفات ہیں اور یہ نہیں کہنا چاہیے کہ’’ ید‘‘ سے مراد اللہ کی قدرت یا اس کی نعمت ہے ‘کیونکہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی صفت کا ابطال لازم آتا ہے اور یہ قدریہ اور معتزلہ کا قول ہے ‘(بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ) اللہ کا ید اس کی صفت بلا کیف ہے ۔
موقف نمبر 2 :      متاخرین اہل السنۃ کا موقف یہ ہے کہ یہ کلمات صفات متشابہات  ہیں اور ان کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ،ہم ان کے معانی میں مناسب تاویل درجۂ ظن میں کرتے ہیں ۔
سوال:    صفات میں تاویل تو معتزلہ کا قول ہے جیسا کہ امام صاحب سے ”الفقہ الاکبر“ میں منقول ہے۔
جواب:   معتزلہ درجۂ یقین میں  جبکہ متاخرین درجۂ ظن میں تاویل کرتے ہیں۔
فائدہ نمبر 1 :            متقدمین اور متاخرین کے مابین نزاع لفظی ہے کیونکہ متقدمین اہل السنۃ والجماعۃ صفات کے معنی مؤول کو درجہ یقین میں قبول نہیں کرتے ‘جبکہ متاخرین اہل السنۃ معنی ٔمؤول کو درجۂ ظن میں قبول کرتے ہیں ۔
فائدہ نمبر2:          متاخرین نے یہ موقف عوام الناس کو اہلِ بدعت (مجسمہ) کے فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے اختیار کیا ، کیونکہ اہلِ بدعت (مجسمہ)ظاہر الفاظ سے عوام کو دھوکا دیتے اور اللہ تعالی کے لئے اعضاء کو ثابت کرتے تھے ۔ چنانچہ امام ابن الہمام ؒ فرماتے ہیں :
’’ھٰذَا التَّاوِیْلُ لِھٰذِہِ الْاَلْفَاظِ لِمَا ذَکَرْنَا مِنْ صَرْفِ فَھْمِ الْعَامَّۃِ عَنِ الْجِسْمِیَّۃِ وَھُوَ یُمْکِنُ اَنْ یُّرَادَ وَلَا یُجْزَ مَ بِاِرَادَتِہٖ‘‘

(المسایرۃ مع المسامرۃ  لابن الہمام ص 48الاصل الثامن)

ترجمہ :     ان الفاظ کی یہ تاویل جو ہم نے ذکر کی ہے ‘ عوام کی فہم کو’’ عقیدۂ جسمیت‘‘ سے بچانے کے لئے ہے اور یہ ممکن ہے کہ (ان الفاظ کا تاویلی معنی) مراد لیا جائے اور اس پر جزم(یقین) نہ کیا جائے ۔
فائدہ نمبر3:            بوقتِ ضرورت متشابہات میں تاویل کرنا متاخرین سے ہی نہیں بلکہ اہل السنۃ والجماعۃ متقدمین سے بھی ثابت ہے ۔ جیسے :’’یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ‘‘  کا معنی حضرت  عبد اللہ بن عباسؓ ’’ عَنْ شِدَّۃٍ‘‘ فرماتے تھے ۔

 (فتح الباری: ج13ص524،باب قول اللہ وجوہ یومئذناضرۃ)

فائدہ نمبر4:          سلف سے مراد 300 ہجری کے آخر تک کے محققین ہیں۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
’’فَالْحَدُّ الْفَاصِلُ بَیْنَ الْمُتَقَدِّمِ وَالْمُتَاَخِّرِ ھُوَرَاْسُ سَنَۃِ ثَلَاثِ مِاَۃٍ۔‘‘

(میزان الاعتدال للامام الذہبی :ج 1 ص 48،مقدمۃ المصنف)

ترجمہ:     متقدمین و متاخرین کے درمیان حدِ فاصل تین سو ہجری کا آخر ہے ۔
موقف نمبر 3 :       غیر مقلدین کا موقف ہے کہ ید ، عین ، ساق وغیرہ کے حقیقی معنی مراد ہیں۔  (عقیدہ مسلم از محمد یحیی گوندلوی ؛ص 177 تا 183)

دلائل اہل السنۃ والجماعۃ :

1:          اَللّٰہُ الصَّمَدُ (سورۃاخلاص :2)
ترجمہ: اللہ بے نیاز ہے ۔ 
صمد کہتے ہیں:’’[اَلَّذِیْ] لَا یَحْتَاجُ اِلٰی اَحَدٍ وَ یَحْتَاجُ اِلَیْہٖ کُلُّ اَحَدٍ‘‘

(تفسیر المدارک للامام النسفی ج 2 ص 842تحت قولہ تعالیٰ: اللہ الصمد)

ترجمہ:  جو کسی کا  محتاج نہ ہو اور سارے اس کے  محتاج ہوں۔
اللہ تعالی موجود ہونے میں جسم کے ، سننے میں کان کے ، دیکھنے میں آنکھ کے اور پکڑنے میں ہاتھ کے محتاج نہیں۔ لہذا اللہ تعالی جسم اور اعضاء جسم سے پاک ہیں۔
2:         متشابہ کی دو قسمیں ہیں :
۱:           غیر معلوم المعنی وغیر معلوم المراد جیسے حروف مقطعات الٓم، حٓم، ن وغیرہ۔
۲:          معلوم المعنی وغیر معلوم المراد جیسے ’’ثُمَّ اسْتَویٰ عَلَی الْعَرْشِ۔‘‘ (سورۃحدید:4)
اگر ہم ان کلمات ید ، عین وغیرہ سے اعضاء مجہول الکیفیۃ مراد لیں تو متشابہ کی ان دو قسموں کے علاوہ تیسری قسم معلوم المعنی معلوم المراد مجہول الکیفیۃ لازم آئے گی‘ جبکہ متشابہ کی تیسری قسم باطل ہے اور مستلزمِ باطل بھی باطل ہوتا ہے۔ (حوالہ؟؟؟؟؟)
3:          معنی جنس ،نوع کے ضمن میں پایا جاتا ہے ۔ ’’ید‘‘جوکہ اسم جنس ہے کا معنی ’’جارحہ‘‘ ہے جو کہ بالاتفاق حادث ہے ۔ اگر ید اللہ سے بھی یہی معنی مراد ہو تو اللہ تعالی کا حادث ہونا لازم آئے گا حالانکہ اللہ تعالی کی ذات قدیم ہے ۔
4:         ان کلمات کے حقیقی معنی مگر مجہول الکیفیۃ مراد لینے سے تناقض اور تضاد لازم آئے گا کیونکہ حقیقی معنی مجہول الکیفیۃ نہیں بلکہ معلوم الکیفیۃ ہے ۔  تناقض باطل ہوتا ہے اور جو چیز مستلزمِ باطل ہو وہ بھی باطل ہوتا ہے۔
5:          اگر صفات کے لئے کیفیات ثابت کردی جائیں اگرچہ مجہول ہی کیوں نہ ہوں تو اللہ تعالی کے لئے جسم لازم آئے گا‘کیونکہ کیفیات اجسام کے ساتھ خاص ہیں۔
چنانچہ امام بیہقی  ؒ فرماتے ہیں :
’’فَاِنَّ الَّذِیْ یَجِبُ عَلَیْنَا وَعَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ اَنْ یَّعْلَمَہٗ اَنَّ رَبَّنَا لَیْسَ بِذِیْ صُوْرَۃٍ وَلَا ھَیْئَۃٍ فَاِنَّ الصُّوْرَۃَ تَقْتَضِی الْکَیْفِیَّۃَ وَھِیَ عَنِ اللّٰہِ وَعَنْ صِفَاتِہٖ مَنْفِیَّۃٌ۔‘‘(کتاب الاسماء والصفات  للبیھقی ج 2ص21، باب ما ذکر فی الصورۃ)
ترجمہ:     جو چیز ہمیں اور ہر مسلمان کو جاننا ضروری ہے‘ وہ یہ ہے کہ ہمارا رب صورت والا ہے نہ ہیئت والا ۔کیونکہ صورت کیفیت کا تقاضا کرتی ہے اور اس کیفیت کی اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات سے نفی کی گئی ہے ۔
اشکال:     امام مالک ؒسے جب ا ستواء کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
اَلْاِسْتِوَائُ مَعْلُوْمٌ وَالْکَیْفُ مَجْہُوْلٌ وَالْاِیْمَانُ بِہٖ وَاجِبٌ وَالسُّوَالُ عَنْہٗ بِدْعَۃٌ۔

(شرح العقیدہ الطحاویہ لابن ابی العز ج 1ص188 ‘ الرد علی الجھمیۃ لابن مندہ :ص104)

ترجمہ:استواء معلوم ہے‘ کیفیت مجہول ہے ‘اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔
غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام مالک ؒنے استواء ثابت کرکے مجہول الکیفیت قرار دیاہے لہذا صفات باری کے  حقیقی معنی مراد لے کر مجہول الکیفیت قراردینا درست ہے۔
جواب:    یہ مقولہ امام مالکؒ سے ثابت ہی نہیں۔

(التعلیق علی کتاب الاسماء والصفات ج2ص151)

امام بیہقیؒ نے کتا ب الاسماء والصفات ج2ص150 اور حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری ج13ص498 باب و کان عرشہ علی الماء میں بسند جید امام مالکؒ کا صحیح قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن وھبؒ فرماتے ہیں کہ ہم امام مالک ؒکے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور امام مالک ؒسے کہنے لگا:
یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ  ! اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ ‘کَیْفَ اسْتِوَائُ ہٗ؟
            اے ابوعبداللہ!رحمن عرش پر مستوی ہے ‘ اس کا استواء کیسے ہے؟
ابن وہب ؒفرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے سر جھکا لیا اور آپ کو پسینہ آگیا۔ پھر آپ نے سراٹھایا اور فرمایا:
اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ کَمَا وَصَفَ نَفْسَہٗ ‘لَا یُقَالُ کَیْفَ؟ وَکَیْفَ عَنْہٗ مَرْفُوْعٌ
            رحمن عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس نے خود بیان کیاہے ‘یہ نہ کہا جائے کہ کیسے؟(یعنی کیفیت کی نفی کی جائے)اور اللہ سے کیفیت مرفوع ہے(یعنی کیفیت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بولا جاتا)
اسی طرح امام ابوبکر بیھقیؒ اور علامہ ابن حجر عسقلانی  ؒنے ولید بن مسلم کے طریق سے نقل کیاہے کہ امام اوزعی  ؒ ‘امام مالک ؒ  ‘امام سفیان ثوری ؒ اور امام لیث بن سعد ؒسے ان احادیث سے متعلق سوال کیا گیا جن میں اللہ کی صفات کا بیان ہے تو انہوں نے فرمایا:
اَمِرُّ وْھَاکَمَا جَائَ تْ بِلَاکَیْفِیَّۃٍ
ترجمہ:یہ احادیث جیسے آ ئی ہیں ویسے بیان کرو کیفیت کے بغیر۔ 

(کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص198،فتح الباری لابن حجر ج13 ص498  باب و کان عرشہ علی الماء )

تو امام مالک سے مروی درج بالاروایات میں’’ کیف ‘‘کی باقاعدہ نفی ہے۔
اشکال :     جب اللہ تعالیٰ مشابہات ِمخلوق سے پاک ہیں تو قرآن و حدیث میں ایسے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے جو انسان کو وہم میں ڈال دیتے ہیں ؟
جواب:     علامہ ابن جوزی ؒ نے ’’دفع شبہ التشبیہ‘‘ میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی طبیعت پر محسوسات اتنے غالب ہو گئے تھے کہ لوگ محسوسات کے بغیر اپنے الٰہ کو سمجھتے نہیں تھے ۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان سے عرض کیا تھا: اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰہً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ (سورہ اعراف 138) کہ ہمارے لئے بھی معبود بنائیے جس طرح ان کے معبود ہیں‘ اور مشرکین کے سوال ’’اللہ تعالیٰ کیا ہے ؟‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدُ؁کہہ دیجئے! اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے ۔
اگر اس وقت ان کلمات کو ذکر کئے بغیر کہا جاتا:’’اَللّٰہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلَا جَوْھَرٍ وَلَا عَرْضٍ وَلَا طَوِیْلٍ وَلَا عَرِیْضٍ وَلَا یَشْغُلُ الْاَمْکِنَۃُ وَلَا یَحْوِیْہِ مَکَانٌ وَلَا جِھَۃٌ مِنَ الْجِھَاتِ السِّتَّۃِ۔‘‘(اللہ تعالی نہ جسم ہے ، نہ جوہر، نہ طویل ، نہ عریض ، نہ امکنہ میں اتر کر ان کو بھر سکتا ہے اور نہ کوئی مکان اس کا احاطہ کرسکتا ہے اور نہ اس کے لئے جہات ستہ میں سے کوئی جہت ثابت ہے ) تو عام آدمی سمجھ نہ سکتا۔

 (دفع شبہ التشبیہ للامام ابن الجوزی: ص 107)

مسئلہ استواء علی العرش

اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ’’استواء علی العرش‘‘اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جس کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور قرآن مجید میں اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں ۔امام بیہقی  ؒ فرماتے ہیں :
فَاَمَّاالْاِسْتِوائُ فَالْمُتَقَدِّمُوْنَ مِنْ اَصْحَابِنَاکَانُوْالَا یُفَسِّرُوْنَہٗ وَلَا یَتَکَلِّمُوْنَ فِیْہِ (کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ج2 ص150)
ترجمہ:     ’’رہا استواء کا مسئلہ تو ہمارے متقدمین حضرات نہ اس کی تفسیر کرتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کلام فرماتے تھے ۔‘‘
جبکہ غیر مقلدین کے ہاں استواء علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حساً فوق العرش ہونا مراد ہے ۔

(عقیدہ مسلم از محمد یحییٰ گوندلوی: ص 219 ، آئیے عقیدہ سیکھئے  از طالب الرحمن شاہ ص 39)

فائدہ:    اللہ تعالیٰ موجود بلا مکان ہے

            اگر کوئی شخص سوال کرے’’اَیْنَ اللّٰہُ ؟‘‘ ( اللہ کہاں ہے ؟) تو اس کا جواب یہ دینا چاہیے  :’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ کہ اللہ تعالیٰ بغیر مکان کے موجود ہیں۔ یہ اہل السنت والجماعت کا موقف و نظریہ ہے جس پر دلائل ِ عقلیہ و نقلیہ موجود ہیں:
فائدہ:    ’’ھُوَ مَوْجُوْدٌ بِلَا مَکَانٍ‘‘ یہ تعبیراہل علم حضرات کی ہے، اسی لیے طلبہ کو سمجھانے کے لیے ’’اللہ تعالی بلا مکان موجو دہے‘‘کہ دیا جاتا ہے۔ عوام الناس چونکہ ان اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے اس لیے اس عقیدہ کو عوامی ذہن کے پیش نظر ’’اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہے‘‘ یا’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔

اہل السنۃکے دلائل :

آیاتِ قرآنیہ:

1:          وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (سورۃ البقرۃ: 115)
ترجمہ :       مشرق و مغرب اللہ تعالی ہی کا ہے ،جس طرف پھر جاؤادھر اللہ تعالیٰ کا رخ ہے ۔
2:         وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ (سورۃ البقرۃ: 186)
ترجمہ :     جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو کہ ) میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
فائدہ :     عرش بعید ہے کیونکہ ہمارے اوپر سات آسمان ہیں، ان پر کرسی ہے، کرسی پر سمندر ہے، سمندر کےاوپر عرش ہے۔

(کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی ج 2ص 145)

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
۱: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰاتٍ۔                     ۲:  وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ۔                                                                                         ۳:  وَ کَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَآئِ۔
3:          یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ۔(النساء:108)
ترجمہ:     وہ شرماتے ہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جب کہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں۔
4:         اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ(ہود:61)
ترجمہ:     بے شک میرا رب قریب ہے قبول کرنے والاہے۔
5:          وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحٰی اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ (سبا:50)
ترجمہ:     اور اگر میں صحیح راستے پر ہوں تو یہ بدولت اس قرآن کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہاہے وہ سب کچھ سنتا بہت قریب ہے۔
6:         وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (سورہ واقعہ:85)
ترجمہ :     تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔
7:         وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورہ ق:16)
ترجمہ :      ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عجیب توجیہ:

            حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بڑی عجیب توجیہ فرمائی ہے، فرماتے ہیں:
”مثلاً جو دو کاغذ گوند سے چپکا دیے گئے ہیں وہ ایک دوسرے سے اتنے قریب نہیں بلکہ گوند جو کہ واسطہ ہے وہ زیادہ قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ مثال سے پاک ہیں لیکن آخر میں تمہیں کس طرح سمجھاؤں، پس جب اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری ہستی کے درمیان واسطہ ہیں تو وہ ہستی سے زیادہ قریب ہوئے۔ اور یہی  حاصل تھا تمہارے ساتھ بنسبت تمہاری جان ہونے کا۔ پس تم سے اتنے قریب ہوئے جتنے کہ خود تم بھی اپنے قریب نہیں جیسا کہ گوند کی مثال میں سمجھایا گیا۔ یہ بہت موٹی بات ہے کہ کوئی قیل و قال کی گنجائش نہیں۔“

(خطباتِ حکیم الامت: ج17 ص431 عنوان: اقربیت کا مفہوم)

8:          وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (سورہ حدید:4)
ترجمہ :       تم جہاں کہیں ہو، وہ (اللہ ) تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔
9:         مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَیٰ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ھُوَرَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا.

 (سورہ المجادلۃ:7)

ترجمہ :       کبھی تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ (اللہ)  نہ ہو، اور نہ پانچ آدمیوں کی کوئی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو، اور چاہے سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
10:        اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ ( سورہ ملک :16)
ترجمہ :      کیا تم کو اس (اللہ تعالی )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا۔
اعتراض:  جب ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں معیت کا ذکر ہے تو غیرمقلدین کہتے ہیں کہ اس سے’’معیت علمیہ‘‘ مراد ہے مثلاًوَہُوَ مَعَکُمْ ای عِلْمُہُ مَعَکُمْ، اور اس پر دلیل یہ ایسی آیات پیش کرتے ہیں: ’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ  الْاَرْضِ الآیۃ (الحج:70)‘‘
جواب:    اولاً.....معیت علمیہ لازم ہے معیت ذاتیہ کو،جہاں ذات وہاں علم ،رہا غیرمقلدین کا’’اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآئِ وَ  الْاَرْضِ‘‘ وغیرہ کی بناء پر یہ کہناکہ اس سے علم مراد ہے، تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس میں ذات کی نفی کہاں ہے؟بلکہ اثباتِ علم سے تو معیت ِذاتیہ ثابت ہوگی بوجہ تلازم کے۔
            ثانیاً..... غیرمقلدین سے ہم پوچھتے ہیں کہ جب ’’اِسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ‘‘یا ’’یَدُاللّٰہِ‘‘ جیسی آیات کو تم ظاہر پر رکھتے ہو،تاویل نہیں کرتے تو یہاں’’وَہُوَ مَعَکُمْ‘‘  [جس میں’’ہو‘‘ ضمیر برائے ذات ہے]جیسی آیات میں تاویل کیوں کرتے ہو؟

احادیث مبارکہ :

1:                                   عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ قَالَ رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ نُخَامَۃً فِیْ قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ وَھُوَیُصَلِّیْ بَیْنَ یَدَیِ النَّاسِ فَحَتَّھَا ثُمَّ قَالَ حِیْنَ انْصَرَفَ: اِنَّ اِحَدَکُمْ اِذَا کَانَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ قِبَلَ وَجْھِہٖ فَلَا یَتَخَمَّنْ اَحَدٌ قِبَلَ وَجْھِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ۔

(صحیح البخاری ج1ص104باب ھل یلتفت لامر ینزل بہ الخ، صحیح مسلم ج1ص207باب النہی عن البصاق فی المسجد الخ)

ترجمہ:     حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مسجد کے قبلہ(کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ ﷺ لوگوں کے آگے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو صاف کر دیا ۔اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے‘  لہذا کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے۔
2:                                   عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ کَانَ اِذَا اسْتَوَیٰ عَلٰی بَعِیْرِہٖ خَارِجًا اِلٰی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَلَاثًا قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘ اَللّٰھُمَّ نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَیٰ وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی ‘ اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَاہٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَنَا ‘اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَہْلِ الحدیث.  (صحیح مسلم ج۱ص۴۳۴ باب استجاب الذکر اذارکب دابۃ)
ترجمہ:     حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کہیں سفر پرجانے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے پھر یہ دعا پڑھتے :پاک ہے وہ پروردگار جس نے اس جانور(سواری )کو ہمارے تابع کردیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں۔ یااللہ!  ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی‘ پرہیز گاری اور ایسے کام جسے تو پسند کرے، کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ!  اس سفر کو ہم پر آسان کردے اور اس کی لمبان کو ہم پر تھوڑا کردے۔ یا اللہ! تو رفیق ہے سفر میں اور محافظ ہے گھرمیں۔
3:                                   عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ  ؓ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ :اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :یَاابْنَ آدَمَ !مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ ‘قَالَ یَارَبِّ کَیْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ؟ قَالَ :اَمَاعَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِیْ فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْہٗ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْعُدْتَّہٗ لَوَجَدْتَّنِیْ عِنْدَہٗ؟

(صحیح مسلم ج 2ص318باب فضل عیادۃ المریض،صحیح ابن حبان ص189،رقم الحدیث269)

ترجمہ:     حضرت ابوہریرۃ ؓؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل ارشاد فرمائیں گے :اے ابن آدم! میں بیمار تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ بندہ کہے گا میں آپ کی بیمار پرسی عیادت کیسے کرتا؟ آپ تو رب العالمین ہیں۔ تو اللہ فرمائیں گے کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا‘ تو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی۔ تجھے پتا ہے کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے وہاں پاتا۔
4:         آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
’’ارْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ۔‘‘ (جامع الترمذی ج 2 ص 14 باب ما جاء فی رحمۃ الناس )
ترجمہ:     ’’تم زمین والوں پر رحم کرو، جو آسمان میں ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ ‘‘
فائدہ:      اس حدیث میں اللہ تعالی کا آسمان میں ہونابتلایا گیا ہے ، غیر مقلدین کا عقیدہ کہ اللہ  صرف عرش پر ہے ،اس سے باطل ہوگیا۔
5:                                   عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ: مَنِ اشْتَکٰی مِنْکُمْ شَیْئًا اَوِ اشْتَکَاہُ اَخٌ لَّہٗ فَلْیَقُلْ :رَبُّنَا اللہّٰ ُ اَّلذِیْ فیْ السَّمَائِ، تَقَدَّسَ اسْمُکَ ‘اَمْرُکَ فِی السَّمَائِ وَالْاَرْضِ کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَائِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِی الْاَرْضِ‘ اِغْفِرْلَنَا حُوْبَنَا وَخَطَایَا نَا‘اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ ‘اَنْزِلْ رَحْمَۃً مِّنْ رَحْمَتِکَ وَ شِفَائً مِنْ شِفَائِکَ عَٰلی ہٰذَا الْوَجْعِ فَیَبْرَاُ۔(سنن ابی دائود ج2ص187باب کیف الرقی)
ترجمہ:     حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ‘آپﷺ فرمارہے تھے : تم میں سے جو شخص بیمار ہویا کوئی دوسرابھائی اس سے اپنی بیماری بیان کرے تو یہ کہے کہ رب ہمارا وہ اللہ ہے جو آسمان میں ہے ۔اے اللہ! تیرا نام پاک ہے اورتیرا اختیار زمین و آسمان میں ہے‘ جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ویسے ہی زمین میں رحمت کر۔ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے۔ تو پاک لوگوں کا رب ہے۔ اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاؤں میں سے ایک شفاء اس درد کے لیے نازل فرما کہ یہ درد جاتارہے۔
6:                                   عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیْ ؓ یَقُوْلُ: بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ مِنَ الْیَمَنِ بِذُھَیْبَۃٍ فِیْ اَدِیْمٍ مَقْرُوْطٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِھَا قَالَ فَقَسَمَھَا بَیْنَ اَرْبَعَۃِ نَفَرٍ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ وَاَقْرَعَ بْنِ حَابِسٍ وَزَیْدٍ الْخَیْلِ وَالرَّابِعِ اِمَّا عَلْقَمَۃَ وَاِمَّا عَامِرِ بْنِ الطُّفُیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ کُنَّا نَحْنُ اَحَقُّ بِھٰذَا مِنْ ھٰؤُلَائِ قَالَ فَبَلَغَ ذٰلکَ النبِّیَّ ﷺ فَقَالَ :اَلَا تَاْمَنُوْنِیْ وَاَنَا اَمِیْنُ مَنْ فِی السَّمَائِ یَاْتِیْنِیْ خَبَرُ السَّمَائِ صَبَا حًا وَمَسَاء ً الحدیث

(صحیح بخاری ج2ص624باب بعث علی بن ابی طالب الخ ، صحیح مسلم ج1ص341باب اعطاء المؤلفۃ و من یخاف الخ)

ترجمہ:     حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے حضرت علیؓ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس رنگے ہوئے چمڑے کے تھیلے میں تھوڑا سا سونا بھیجا‘ جس کی مٹی اس سونے سے جدا نہیں کی گئی تھی (کہ تازہ کان سے نکلاتھا)آپ ﷺنے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا، آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا کہ ہم اس سونے کے ان لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں۔ آنحضرتﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا:کیا تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہے؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں جو آسمان میں ہے۔ میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔
فائدہ:     اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بتلایا گیاہے غیرمقلدین کا عقیدہ کہ اللہ عرش پر ہے اس سے باطل ہوگیا۔
7:         حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک نقل کرتے ہیں:
’’لَوْاَنَّکُمْ دَلَّیْتُمْ بِحَبْلٍ اِلَی الْاَرْضِ السُّفْلیٰ لَھَبَطَ عَلَی اللّٰہِ۔‘‘ (جامع الترمذی ج 2 ص 165تفسیر سورۃ حدید )
ترجمہ:     اگر تم ایک رسی زمین کے نیچے ڈالو تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جائے گی۔
فائدہ :      رسی کا زمین کے نیچے اللہ تعالی کے پاس جانا دلیل ہے کہ ذات باری تعالی صرف عرش پر نہیں جیسا کہ غیر مقلدین کا عقیدہ ہے بلکہ ہر کسی کے ساتھ موجود ہے ۔
8:          حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ‘لوگ اونچی آواز سے تکبیریں کہنے لگے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اِرْبَعُوْاعَلٰی اَنْفُسِکُمْ‘اِنَّکُمْ لَیْسَ تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، اِنَّکُمْ تَدْعُوْنَہٗ سَمِیْعاً قَرِیْباً وَھُوَ مَعَکُمْ۔‘‘

(صحیح مسلم؛ ج2ص 346باب استحباب خفض الصوت بالذکر )

ترجمہ:     ’’اپنی جانوں پر نرمی کرو! تم بہرے و غائب کو نہیں پکار رہے ، تم جسے پکار رہے ہو وہ سننے والا، قریب اور تمہارے ساتھ ہے۔ ‘‘

فائدہ:

            اگر قرب سے مراد ”قرب علمی“ ہوتا تو ”قریباً“ کہنے پر اکتفاء ہو جاتا لیکن ”وَھُوَ مَعَکُمْ“ فرما کر ”قربِ ذاتی“ کی طرف اشارہ فرما  دیا۔ اسی طرح اگر مراد صرف ”قربِ وصفی“ ہوتا تو ”اَصَمَّ“ کے بعد ”وَلَا غَائِبًا“  نہ فرماتے۔
9:         حضرت عبداللہ بن معاویہؓ  فرماتے ہیں حضورﷺ سے پوچھاگیا:
’’فَمَا تَزْکِیَۃُ الْمَرْئِ نَفْسَہٗ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!‘‘ قَالَ: اَنْ یَعْلَمَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَہٗ حَیْثُمَا کَانَ۔

(السنن الکبری للبیھقی ج4ص95، 96 باب لایاخذالساعی‘شعب الایمان للبیھقی ج3ص187باب فی الزکوۃ)

ترجمہ:     آدمی کے اپنے نفس کا’’تذکیہ‘‘ کرنے سے کیا مرادہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ انسان یہ یقین بنا لے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ اس کے ساتھ ہے۔
10:                           عَنْ عُبَادَ ۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ :اِنَّ اَفْضَلَ الْاِیْمَانِ اَنْ تَعْلَمَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَکَ حَیْثُمَا کُنْتَ۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ج6ص287رقم الحدیث8796)

ترجمہ:     حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ افضل ایمان یہ ہے کہ تو یہ یقین بنا لے کہ اللہ تیرے ساتھ ہے تو جہاں کہیں بھی ہو۔

عقلی دلائل :

1:          اللہ تعالیٰ خالق ہے اور عرش مخلوق ہے ، خالق ازل سے ہے ۔اگر اللہ تعالی کو عرش پر مانا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ جب عرش نہیں تھا تو اللہ تعالی کہاں تھے ؟
2:         حقیقتاً مستوی علی العرش ہونے کی تین صورتیں ہیں:
الف:      اللہ تعالیٰ عرش کے محاذات میں ہوں گے ۔
ب:        عرش سے متجاوز ہوں گے ۔
ج:         عرش سے کم ہوں گے ۔
اگر عرش کے محاذات میں مانیں تو عرش چونکہ محدود ہے لہذا اللہ تعالیٰ کا محدود ہونا لازم آئے گا ‘اور متجاوز مانیں تو اللہ تعالیٰ کی تجزی یعنی تقسیم لازم آئے گی (اور تجزی یعنی تقسیم جسم کی ہوتی ہے اور جسم حادث ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے) اور اگر عرش سے کم مانیں تو عرش  یعنی مخلوق کا اللہ تعالیٰ یعنی خالق سے بڑا ہونا لازم آئے گا ‘جبکہ یہ تینوں صورتیں محال اور ناممکن ہیں۔
3:          اللہ تعالیٰ خالق ہیں جوکہ غیر محدود ہیں ، عرش مخلوق ہے جو کہ محدود ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانا جائے تو غیر محدود کا محدود میں سمانا لازم آئے گا جو کہ محال ہے۔
4:         اگر اللہ تعالیٰ کو عرش پر حقیقتاً مانیں تو حقیقی وجود کے ساتھ کسی چیز پر ہونا یہ خاصیت جسم کی ہے اور اللہ تعالی جسم سے پاک ہیں کیونکہ ہر جسم مرکب ہوتا ہے اور ہر مرکب حادث ہوتا ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہیں ۔
5:          اگر اللہ تعالیٰ کو حقیقتاً عرش پر مانیں تو عرش اللہ تعالیٰ کے لئے مکان ہوگا اور اللہ تعالیٰ مکین ہوں گے اور ضابطہ ہے کہ مکان مکین سے بڑا ہوتا ہے ، اس عقیدہ سے ’’ اللہ اکبر‘‘ والا  عقیدہ ٹوٹ جائے گا۔
6:         اگر اللہ تعالیٰ کا فوق العرش ہونا مانیں تو جہتِ فوق لازم آئے گی اور جہت کو حد بندی لازم ہے۔ حد بندی محدود کی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ غیر محدود ہیں۔
7:         حد بندی کو جسم لازم ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے ۔
8:          اگر اللہ تعالیٰ کو فوق العرش مانیں تو عرش اس کے لئے مکان ہوگا اور مکان اپنے  مکین کو محیط ہوتا ہے اور مکین محاط ہوتا ہے حالانکہ اللہ  تعالیٰ محیط ہیں محاط نہیں‘قرآن کریم میں ہے :’’وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطًا۔‘‘کہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو محیط ہے۔

مسلک اہل السنت پر اعتراضات کے جوابات:

اعتراض نمبر1:

            اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانا جائے تو کیا اللہ تعالیٰ بیت الخلاء میں بھی موجود ہے ؟ اگر کہیں کہ ’’نہیں‘‘ تو ہر جگہ ہونے کا دعویٰ ٹوٹ گیا اور اگر کہیں ’’ہے‘‘  تو اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔
جواب نمبر1:        بعض چیزوں کو اجمالاً بیان کریں تو مناسب اور ادب ہے،اگر تفصیلات بیان کریں تو خلافِ ادب ہے۔ مثلاً:
مثال نمبر1:  سسر اپنے داماد کو کہے: ’’میری بیٹی کے حقوق کا خیال رکھنا ‘‘،تو اجمالاً قول ہونے کی وجہ سے یہ ادب ہے لیکن اگر وہ تمام حقوق ایک ایک کرکے گنوانا شروع کردے تو یہ خلاف ادب ہے۔
مثال نمبر2: ’’سر سے لے کر پاؤں تک تمام جسم کا خالق اللہ ہے‘‘ یہ کہنا ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک عضو کا نام لے کر یہی بات کہی جائے تو یہ خلافِ ادب ہے۔
اسی طرح ’’اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے‘‘یہ اجمالاً کہنا تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے درست اور ادب ہے لیکن تفصیلاً ایک ایک جگہ کا جس میں ناپسندیدہ جگہیں بھی شامل ہوں، نام لے کر کہا جائے تو یہ بے ادبی ہونے کی وجہ سے غلط ہوگا۔ لہذا ایسا سوال کرنا ہی غلط، نامناسب اور ناجائز ہے۔
جواب نمبر2:       یہ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو وجود بمعنی ’’جسم‘‘ کے ساتھ مانیں جیسے قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے کر جانا قرآن کی توہین اور بے ادبی ہے حالانکہ ہر حافظ جب بیت الخلاء جاتا ہے تو قرآن اس کے سینے میں موجود ہوتا ہے لیکن بے ادبی نہیں ، کیونکہ قرآن جسم سے پاک ہے، ایسے ہی ہم اللہ تعالیٰ کا جسم ہی ثابت نہیں کرتے تو بے ادبی لازم نہیں آتی ۔
جواب نمبر3:        رمضان مبارک کا مہینہ ہر جگہ مبارک ہے ۔اگر کوئی شخص پوچھے کہ بیت الخلاء میں رمضان ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ہر جگہ رمضان نہیں، اگر ہے تو بیت الخلاء میں بابرکت کیسے؟ تو اس کا یہ سوال لغو ہوگا کیونکہ جب رمضان کا جسم نہیں ہے تو ہر جگہ ماننے میں کوئی بے ادبی نہ ہو گی اور یہ ہر جگہ با برکت ہوگا۔ اسی طرح جب اللہ کا جسم نہیں تو ہر جگہ ماننے میں بے ادبی نہیں ۔
جواب نمبر4:              (از قلم: عباس خان) فرقہ سلفیہ کہتا ہے کہ اللہ کا علم ہر جگہ ہےتو کیا خیال ہے کہ باتھ روم میں بھی ہے، یہ اعتراض الٹا ان پر پڑتا ہے۔

اعتراض نمبر2:

             اگر اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ مانیں تو اس سے حلول اور اتحاد لازم آئے گا ۔
جواب :  حلول اور اتحاد تب لازم آئے گا جب اللہ تعالی کے لئے جسم مانا جائے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیں۔
فائدہ :     دو چیزوں کا اس طرح ایک ہونا کہ ہر ایک کا وجود باقی رہے ’’اتحاد‘‘ کہلاتا ہے جیسے آملیٹ اور دو چیزوں کااس طرح ایک ہونا کہ ایک چیز کا وجود ختم ہو جائے’’حلول‘‘ کہلاتا ہے  جیسے شربت۔
جواب نمبر 2:  (از قلم : عباس خان) کسی چیز میں حلول کرنا یا کسی چیز کے ساتھ اتحاد کرنا مخلوق کی صفت ہے اللہ مخلوق کی صفات سے پاک ہے۔
اور ان کے اس اعتراض سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ لو گ اللہ تعالٰی  کی ذات کو کوئی جسم جیسی کوئی چیز مانتے ہیں جس کے متعلق اگر کہا جائے کہ اگر یہاں ہے تو لازماً اتحاد ہو گا حلول ہو گا۔ یہ بھی اللہ کو نعو ذ باللہ  ایسا ہی خیال کرتے ہیں اس لئے یہ  سوال اٹھاتے ہیں۔

 غیر مقلدین  کے دلائل اور ان کے جوابات:

قرآنی آیات:

1:          اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : ثُمَّ اسْتَوَیٰ عَلَی الْعَرْشِ۔(سورہ حدید 4،سورہ رعد:2، طہ: 5 ، سجدہ : 4)
جواب نمبر1:        اس کا معنی ’’عرش پر اللہ کا غالب ہونا‘‘ ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا معنی:’’ اَیْ عَلَا عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (صحیح بخاری: کتاب التوحید ،باب وکان عرشہ علی الماء)نقل کیا ہے اور عربی زبان میں ’’استویٰ‘‘ بمعنی ’’غالب ہونا‘‘ استعمال ہوتا رہتا ہے۔ ایک شاعر نے بشر بن مروان کی مدح میں یہ شعر کہا تھا:
قَدِ اسْتَوَیٰ بِشْرٌ عَلَی الْعِرَاقٖ
مِنْ  غَیْرِ سَیْفٍ  وَّ  دَمٍ  مُّھْرَاقٖ

(کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص153)

ترجمہ:بشر بن مروان نے بغیر جنگ اور خونریزی کے عراق پر غلبہ پا لیا۔
ایک اور شاعر نے کہا:
فَلَمَّا عَلَوْنَا وَ اسْتَوَیْنَا عَلَیْہَمٖ
جَعَلْنَاہُمُ مَرْعٰی لِنَسْرٍ وَّ طَائِرٖ

(التعلیق علی کتاب الاسماء و الصفات للبیہقی:ج2ص154)

ترجمہ:جب ہم ان پر چڑھ دوڑے اور ان پر غلبہ پا لیا تو انھیں( ٹکڑے ٹکڑے کر کے)گدھوں اور پرندوں کے کھانے کے لیے چھوڑ دیا۔
اشکال:    اگر کوئی کہے کہ عرش کی کیا تخصیص ہے ،جب کہ اللہ تو آسمان،زمین اور دیگر مخلوقات پر بھی غالب ہے ،تو عرش کو خاص کیوں کیا گیا؟
 جواب:   عرش کائنات کا مکانِ آخر ہے تو مکانِ آخر تک غلبہ بتانے کے لیے عرش کا ذکر کیا۔ جیسے ایک آدمی کے پاس سائیکل ،موٹرسائیکل اور کار ہو تو وہ اپنی ملکیت اور مالی رتبہ بتانے کے لیے یہ کہے : ’’میرے پاس کار ہے‘‘ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کے پاس سائیکل اور موٹر سائیکل رکھنے کی اہلیت نہیں۔
جواب نمبر 2:        اگر استویٰ علی العرش سے اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً عر ش پر ہونا مراد لیں تو قرآن کریم کی بہت ساری ان آیات کا ان آیات سے تعارض لازم آتا ہے جن میں اللہ تعالی کے فوق العرش ہونے کی بجائے فی السماء یا ہر جگہ ہونے کا ذکر موجود ہے جیسے:
’’وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ‘‘ (سورہ البقرۃ: 115)
ترجمہ: اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں، لہذا جس طرف بھی تم رخ کرو گے وہیں اللہ کا رخ ہے۔
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ“ (سورہ ق:16)
ترجمہ :      ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
’’اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ‘‘ ( سورۃ الملک :16) [کیا تم کو اس (اللہ تعالیٰ )کا جو آسمان میں ہے، خوف نہیں رہا]
وغیرہ کا اس آیت سے تعارض لازم آتا ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں قطعاً تعارض نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے :
’’وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُ وْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْراً۔‘‘(سورۃ النساء: 82)
ترجمہ:      اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔
جواب نمبر 3:        بہتر یہ ہے کہ جواب یوں دیا جائے کہ یہ متشابہا ت میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔اس پر کسی قسم کا اشکال نہ ہوگا اور آیات کا تعارض بھی لازم نہیں آئے گا۔
2:          وہ تمام آیات جن سے اللہ تعالیٰ کا جہتِ علو یعنی جانب ِبلندی کی طرف ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً
1:          اِ لَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ (سورہ فاطر؛ 10)
ترجمہ :      اسی کی طرف پاکیزہ کلام چڑھتا ہے ۔
جواب :     یہ کنایہ حسنِ قبول سے ہے۔  چنانچہ امام ا بوبکر البیھقیؒ فرماتے ہیں :
صُعُوْدُ الْکَلِمِ الطَّیِّبِ وَالصَّدَقَۃِ الطَّیِّبَۃِاِلَی السَّمَائِ عِبَارَۃٌ عَنْ حُسْنِ الْقُبُوْلِ لَھُمَا.

( کتاب الاسماء والصفات ج2ص168)

کلمات طیبہ اور صدقہ طیبہ کا آسمان کی طرف چڑھنا ان کے حسنِ قبول سے عبارت ہے۔
2:         وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ (سورۃ الانعام:18)
ترجمہ :      وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔
            غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اللہ غالب تب ہو گا جب سب سے اوپر ہو۔
جواب:     فوقیت سے مراد  فوقیتِ حسی نہیں بلکہ فوقیتِ مرتبہ اور فوقیتِ قدرت ہے ۔دلیل اس پر ’’وَھُوَ الْقَاھِرُ‘‘ہے جیسے غلام دوسری منزل پر اور آقا پہلی منزل پر ہو توکہتے پھر بھی یہی ہیں کہ آقا اپنے غلام پر غالب ہے ۔
3:          اَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ (سورۃ الملک :16)
ترجمہ :      کیا تم کو اس (ا للہ ) کا جو آسمانوں میں ہے، خوف نہیں رہا۔
جواب نمبر1:            مَنْ فِی السَّمَائِ سے مَنْ عَظُمَ شَانُہٗ  مراد ہے ۔
جواب نمبر2:          اگر اس کا حقیقی معنی ہی مراد لیں تو پھر بھی یہ غیر مقلدین کے موقف فوق علی العرش کے خلاف ہے ۔
4:         تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ (سورۃ المعارج: 4)
جواب:    محل امر مراد ہے  کہ وہاں سے فرشتے امر لاتے ہیں۔
5:          بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (سورۃ النساء؛158)
ترجمہ :      بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔
جواب:     امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ نے اس آیت کی بہترین تفسیر اور مطلب بیان کیاہے چنانچہ فرماتے ہیں :
’’اَیْ اِلَی السَّمَائِ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ مُتَعَالٍ عَنِ الْمَکَانِ۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ج2ص12)
ترجمہ:     اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے۔
امام فخر الدین رازیؒ فرقہ مُشبِّہ( جو اللہ تعالیٰ کے لیے اس آیت سے جہت ثابت کرتے ہیں)کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’اَلْمُرَادُ الرَّفْعُ اِلٰی مَوْضِعٍ لَایَجْرِیْ فِیْہِ حُکْمُ غَیْرِ اللّٰہِ۔‘‘(تفسیر الفخر الرازی ج11ص102تحت قولہ تعالیٰ:بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہ)
ترجمہ:     ’’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘‘ سے مراد  ایسے مقام کی طرف اٹھانا ہے جہاں غیر اللہ کاحکم نہیں چلتا۔
فائدہ:    دنیا میں حقیقی اختیار ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اگر ظاہری اختیار بندے کا ہو تو نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے جیسے زکریا علیہ السلام کا مریم علیہا السلام کا کھانا دینا لیکن جو اللہ کی طرف سے ملے جس میں بندے کو اختیار نہیں تھا اس کو﴿مِنْ عِنْدِ اللَّه﴾  فرمایا۔ دین میں کمی بیشی کا اختیار چونکہ بندے کے پاس نہیں، اس لیے فرمایا:﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ﴾۔شہید کو جو بعد الموت رزق ملتا ہے اس میں بھی  بندے کے اختیار کو دخل نہیں ہوتا اس لئے ﴿عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ فرمایا۔ عرف میں اگر کوئی آدمی اپنے گھر سے دوسرے شہر چلا جائے تو نسبت اس کی طرف ہوتی ہے، مثلاً فلاں بندہ لاہور یا کراچی چلا گیا، لیکن اگر کوئی بندہ دنیا کو چھوڑ کر قبر میں چلا جائے تو نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا ہے کیونکہ موت میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے اور لاہور جانے میں ظاہری اختیار بندے کا ہے۔

احادیث مبارکہ:

1:حضرت معاویہ بن الحکم السلمی ؓ فرماتے ہیں:
کَانَتْ لِیْ جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًالِیْ قِبَلَ اُحُدٍوَالْجَوَّانِیَّۃِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ  فَاِذَاالذِّئْبُ قَدْ ذَھَبَ بِشَاۃٍ عَنْ غَنَمِھَا وَاَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ آدَمَ اٰسَفُ کَمَایَاْ سَفُوْنَ لٰکِنِّیْ صَکَّکْتُھَا صَکَّۃً فَاَ تَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ۔قُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ !اَفَلَا اَعْتِقُہَا ؟ قَالَ :اِئْتِنِیْ بِھَا۔ فَاَ تَیْتُہٗ بِھَا فَقَالَ لَھَا: اَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ :فِی السَّمَائِ ۔قَالَ مَنْ اَنَا؟ قَالَتْ :اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۔قَالَ :اَعْتِقْھَا ‘فَاِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ.

 (صحیح مسلم ج1ص203،204باب تحریم الکلام فی الصلوۃ الخ)

ترجمہ:     میری ایک باندی تھی ‘جو احد اور جوانیہ کی طرف بکریاں چراتی تھی ۔ ایک دن میں وہاں آنکلا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک بکری کو لے گیا ہے۔ آخرمیں بھی آدمی ہوں مجھ کو بھی غصہ آجاتا ہے ۔میں نے اس کو ایک طمانچہ مارا۔ پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے میرا یہ فعل بہت بڑا قراردیا۔ میں نے کہایارسول اللہ! کیامیں اس باندی کوآزاد نہ کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ کے پاس لے کر گیا۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں۔ آپ ﷺنے فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔( یعنی آپ ﷺکو اللہ نے بھیجا ہے) تب آپ ﷺنے فرما یااس کو آزاد کردے  اس لیے کہ یہ مؤمنہ ہے۔
جواب نمبر1:         یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ متناً مضطرب ہے۔

 ( کتاب الاسماء والصفات ج 2ص164 ،، تلخیص الحبیرللامام ابن حجرؒ ج 3 ص 223 کتاب الکفارات )

ا ور متن میں اضطراب وجہ ضعف ہوتا ہے ۔

(تقریب النووی مع شرحہ التدریب: ص 234)

جواب نمبر2:       اگر اس حدیث کو سنداً و متناً صحیح و قابل ِاستدلال مان بھی لیا جائے تو یہ حدیث خود غیر مقلدین کے خلاف ہے کیونکہ ان کا دعویٰ تو فوق العرش ہونے کا ہے اور اس سے تو اللہ تعالی کا ’’فی السماء‘‘ ہونا لازم آتا ہے ۔
جواب نمبر3:        ہر آدمی بقدر عقل مکلف ہوتاہے۔ باندی کا جواب واقع کے مطابق درست نہ تھا‘ لیکن اس میں عقل ہی اتنی تھی کہ جواب اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے اس کا ایماندار ہونا تسلیم کرلیاگیا۔لہٰذا اس سے اللہ کے محض ’’فی السماء‘‘ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتاجیسا کہ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کو موت آئی۔ جب اس کو زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرکے آگ جلانا اور مجھے اس میں ڈال دینا‘ یہاں تک کہ جب آگ میرے گوشت کو کھالے اور ہڈیوں تک پہنچ جائے تو تم ان ہڈیوں کو پیس لینا اور پھر مجھے( یعنی پسی ہوئی ہڈیوں کو) کسی گرم یا کسی تیز ہوا چلنے والے دن دریامیں ڈال دینا(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا)
فَجَمَعَہُ اللّٰہُ فَقَالَ :لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِک۔َ فَغَفَرَلَہٗ۔(صحیح البخاری ج1ص495باب بلا ترجمہ، بعد باب حدیث الغار)
            پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کرکے فرمایاکہ تو نے ایسا کیوں کیا؟اس نے عرض کیاتیرے خوف کی وجہ سے۔ پس خدا نے اس کوبخش دیا۔
اس روایت میں مذکورشخص کا خوفِ خدا کی وجہ سے ایسی خلاف شریعت وصیت کرنا اور پھراس کے گھر والوں کا اس پر عمل کرنا‘ واقع میں اسے اللہ کے سامنے حاضری سے نہ بچا سکا‘ لیکن چونکہ اس میں عقل ہی اتنی تھی لہٰذا اس کا یہ عمل وعذر اس کی عقل کے بقدر ہونے کی وجہ سے قبول کرکے اسے بخش دیاگیا۔ یہاں بھی ایسی خلاف شریعت وصیت کرنے‘ اس پر عمل اور بوجہ عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہ ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
2 :         حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’یَنْزِلُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا کُلَّ لَیْلَۃٍ حَتّٰی یَمْضِیَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ۔‘‘

 ( صحیح مسلم ج1 ص 258  باب صلوۃ اللیل و عدد رکعات النبی ﷺ فی اللیل الخ)

ترجمہ :     ہر رات اللہ تعالیٰ آسمان ِدنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۔
اس سے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اوپر ہے ۔
جواب نمبر1:نزول سے مراد  نزولِ رحمت ہے ۔
جواب نمبر2:اگر اس کا حقیقی معنی مراد ہو تویہ تمہارے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ جب آسمان پر ہوں گے تو فوق العرش نہیں ہوں گے۔

عقلی دلا ئل :

۱:     اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں اسی لیے  تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم کلام ہونے کے لئے عرش پر بلایا۔
جواب:  ہم کلام ہونے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو عرش پر بلانا اگر عرش پر ہونے کی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر بلانا اللہ تعالیٰ کے کوہِ طور پر ہونے کی دلیل ہے اور ہر نمازی کا مسجد میں جا کر اللہ سے بات کرنا ہر مسجد میں ہونے کی دلیل ہے۔کلامِ الہیٰ تجلی ٔالہی کا نام ہے ‘چاہے اس کے ظہور کے لئے انتخاب عرش کا ہو یا کوہ طور کا ہو یا منصور حلاج ؒکی زبان کا ہو۔
۲:     بوقت دعا ہاتھ اوپر کی جانب اٹھائے جاتے ہیں جو دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب:   اللہ تعالیٰ جہت سے پاک ہیں لیکن تمام جہات کو محیط ہے‘ لیکن بندے کے قلبی استحضار کے لئے بعض اعمال کے لئے بعض جہات کا تعین فرما دیتے ہیں۔ جیسے نماز کے لئے جہتِ کعبہ کو قبلہ قرار دیا ، دعا کے لئے جہتِ فوق کو قبلہ قرار دیا اور نہایت اعلیٰ درجہ کے قرب ِالہی کے حصول کے لئے جہتِ ارض کو قبلہ قرار دیا اور قرآن مجید میں حکم دیا:’’وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ‘‘(اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ)
فائدہ:     ہمارا نظریہ ہے کہ آپ ﷺ کے جسم اطہر سے لگنے والی مٹی کے ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ عظمت کا اظہار تجلیات الٰہیہ کے ظہور پر ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات گرامی پر سب سے زیادہ تجلیاتِ الٰہیہ کا ظہور ہوتا ہے۔ اس لیے آپ علیہ السلام کے جسم کو لگنے والی مٹی عرش و کعبہ سے افضل ہے۔
اس پر غیر مقلدین یہ اعتراض کرتے ہیں:
اعتراض:              اگر یہ  ذرات کعبہ سے بھی اعلیٰ ہیں تو سجدہ کعبہ کی طرف نہ کرو بلکہ روضہ رسول ﷺ کی طرف منہ کر کے کرو۔
جواب نمبر1:           ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ افضل ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ اگر آپ کا یہی اصول ہے تو آپ کے ہاں عرش کعبۃ اللہ سے افضل ہے تو آپ نماز میں اپنا منہ عرش کی طرف کیوں نہیں کر لیتے؟؟
جواب نمبر2:          کعبہ مرکز عبادت اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم مرکزعقیدت۔
۳:     اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کے لئے عموماً اوپر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہیں۔
جواب نمبر1:            اللہ تعالیٰ جہاتِ ستہ سے اگرچہ پاک ہیں‘ لیکن تمام جہات کو محیط بھی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شّیْئٍ مُّحِیْطًا (سورۃ النساء:126)[اللہ تعالیٰ ہر چیز کو محیط ہے] اور جہاتِ ستہ میں سے جہت ِعلو کو باقی جہات پر عقلاً فوقیت حاصل ہے ۔اس لئے علوِ مرتبہ اور تعظیم کا خیال کرتے ہوئے اشارہ اوپر کیا جاتا ہے۔ جیسے استاذ کی آواز دورانِ سبق تمام جہات کی طرف منتقل ہوتی ہے لیکن استاد کے سامنے بیٹھ کر آواز کو سننا ادب ہے اور پیچھے بیٹھ کر سننا بے ادبی ہے ۔
جواب نمبر2:          اللہ اوپر نہیں بلکہ ”محل امر“ اوپر ہے۔بہر حال اس کی توجہ محل امر کی طرف ہے اور محل امر  چونکہ اوپر کی طرف ہے اس لیے اشارہ بھی اوپر ہے۔

فائدہ:

یہاں چند ایک عبارات نقل کرنا ضروری ہے جن کی بنیاد پر یہ سمجھا گیا ہے کہ ’’معیت‘‘ سے مراد ’’معیت ذاتیہ‘‘ ہے ۔
[۱]:          مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ رئیس دارلعلوم کراچی نے فرمایا:
”اللہ رب العزت کی ذات تو ایسی عظیم ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ کسی خاص مقام تک محدود نہیں ہے، کعبہ بیت اللہ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر موجود ہے اس کے سوا کہیں اور موجود نہیں، ایسا نہیں بلکہ وہ تو ہر جگہ ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا:
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ
تم  جہاں کہیں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
یعنی تم  جہاں بھی ہوتے ہو اللہ تمہارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، اس وقت بھی ساتھ ہے، تمہارے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی۔ اور قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا:
﴿وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ(سورۃ ق، آیت نمبر۱۶)
اور ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
انسان کی شہ رگ کتنی قریب ہوتی ہے، جسم کا حصہ ہے لیکن فرمایا کہ ہم ہر انسان کے اس سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ تو اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس تو  لا محدود ہے وہ کسی خاص مکان کے ساتھ محدود نہیں ہے، کسی خاص مکان کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ چنانچہ عرش پر بھی ہے، آپ کے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی، ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر جگہ ہے۔ مدینہ میں بھی ہے اور مکہ میں بھی۔ ہر آسمان پر ہے، عرش پر بھی ہے اور کرسی پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے تو اس لحاظ سے ہر جگہ ہی افضل ہے۔“

(ماہنامہ البلاغ: ربیع الاول ۱۴۳۴ھ/ فروری۲۰۱۴ءص21 خطاب حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی)

[۲]:          حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ سے کسی نے معیت وقربِ خداوندی کے بارے میں سوال کیا‘ جس کا آپؒ نے جواب دیا۔ سوال وجواب کا عبارت من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’مسئلہ: قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: نَحْنُ اَقْرَبْ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ وَقَالَ :وَھُوَمَعَکُمْ الآیۃ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُوْلُ اِنَّ الْقُرْبَ بِاعْتِبَارِ الذَّاتِ وَالْوَصْفِ وَیَقُوْلُ بَعْضُ النَّاسِ اِنَّ الْقُرْبَ بِحَسْبِ الْوَصْفِ فَقَطْ‘ فَاَیُّ الْحِزْبَیْنِ عَلَی الصَّوَابِ وَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ عَلَی الْحَقِّ ؟وَاِنْ کَانَ اللّٰہُ قَرِیْبًا بِالذَّاتِ ؛ہَلْ یَقْرُبُ مَعَ کَوْنِ اسْتِوَائِہٖ عَلَی الْعَرْشِ اَمْ لَا؟ثُمَّ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ بِالْقُرْبِ الْوَصْفِیْ یَدَّعُوْن بِالْقَائِلِیْنَ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ اَنَّہُمْ کَفَرُوْابِقَوْلِہِمْ بِالْقُرْبِ الذَّاتِیْ ۔ہَلْ یَجُوْزُ نِسْبَۃُ الْکُفْرِ اِلٰی مَنْ قَالَ اِنَّ الْقُرْبَ ذَاتِیٌ اَمْ لَا؟
الجواب:                                                 لَمَّا کَانَ الْمُتَبَادَرُ عِنْدَ الْعَامَّۃِ مِنَ الْمَعِیَّۃِ الذَّاتِیَّۃِ ھِیَ الْمَعِیَّۃُ الْجِسْمَانِیَّۃُ اَبْطَلَھَا الْعُلَمَآئُ وَکَفَّرَ بَعْضُھُمُ الْقَائِلِیْنَ بِھَا‘ وَلَوْاُرِیْدَ بِھَا الْمَعِیَّۃُ غَیْرُ الْمُتَکَیِّفَۃِ فَلَا مَحْذُوْرَ فِی الْقَوْلِ بِھَا‘ وَالْاِمْتِنَاعَ فِی اجْتِمَاعِھَا بِالْاِسْتِوَائِ،لِاَنَّ الذَّاتَ لَیْسَتْ بِمُتَنَا ھِیَۃٍ وَالْمَعِیَّۃُ لَیْسَتْ بِمُتَکَیِّفَۃٍ ‘وَمَنْ  لَمْ یَقْدِرْ عَلٰی اعْتِقَادِھَا بِلاَ کَیْفِیَۃٍ فَالْاَسْلَمُ لَہٗ،اَنْ یَّقُوْلَ بِالْمَعِیَّۃِ الْوَصْفِیَّۃِ (ای العلمیۃِ) فَقَطْ ، وَبِھٰذَا التَّقْرِیْرِ خَرَجَ الْجَوَابُ مِنْ کُلِّ سُوَالٍ وَارْتَفَعَ کُلّْ اِشْکَالٍ ۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الْکَبِیْرِ الْمُتَعَالِ عَنْ کُلِّ مَکَانٍ وَخَیَال۔ٍ‘‘

(بوادر النوادر ازحضرت تھانوی  ؒص50، 51)

ترجمہ: مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ایک اور مقام پر فرمایا:اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ذات اور وصف دونوں کے اعتبار سے ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ قرب فقط وصف کے اعتبار سے ہے۔ان میں سے کس کا موقف درست ہے اور کون حق پر ہے؟اور اگر اللہ تعالیٰ بالذات قریب ہو تو کیا عرش پر مستوی ہوتے ہوئے قریب ہوگا یا نہیں؟پھر جو لوگ قربِ وصفی کے قائل ہیں وہ قرب ذاتی کے قائلین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ قرب ِذاتی کے قول کی وجہ سے کافر ہیں ۔تو جس شخص نے کہاکہ قر ب ذاتی ہے‘ کیا اس  شخص کو کافر کہناجائز ہے یا نہیں؟
الجواب :  چونکہ ”معیت ذاتیہ“ کہنے سے عوام کا ذہن فوراً ”معیت ِجسمانیہ“ کی طرف جاتا ہے اس لیے  علماء نے ایسا کہنے سے روک دیا اور بعض علماء نے معیت ِذاتیہ کے قائلین کو کافر تک کہہ دیا اور اگر معیت ذاتیہ سے مراد ’’معیت بلاکیف‘‘ لی جائے تو اس نظریہ کا قائل ہونے میں کوئی حرج نہیں ‘اور معیتِ غیر متکیفہ کو استواء (علی العرش) کے ساتھ جمع کرنا ممتنع بھی نہیں ہے ، اس لیے کہ ذات باری تعالیٰ متناہی نہیں اور معیت متکیفہ نہیں‘ اور جو شخص معیت بلا کیفیت کے اعتقاد پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ معیتِ وصفیہ ، یعنی علمیہ کاقائل ہو جائے۔ اس تقریر سے سا رے سوال ختم ہوگئے اور سارے اشکالات حل ہوگئے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو بڑا ہے اور ہر مکان اور خیال سے پاک ہیں۔
[۳]:          حضرت مجدد الف ثانی  ؒ فرماتے ہیں:
’’آگاہ ہو کہ فوق العرش کا ظہور تجھے وہم میں نہ ڈالے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالی کا مقام و قرار عرش کے اوپر ہے اور جہت و مکان اس کے لئے ثابت ہے ۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ وَ عَمَّا لَا یَلِیْقُ بِجَنَابَ قدُسْہٖ تَعَالٰی ( اللہ تعالی کی پاک ذات ایسی باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں، بر تر اور بلند ہے ) ‘‘

(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2 ص 53)

مزید فرماتے ہیں:
            ’’اور یہ بھی مناسب نہیں کہ حق تعالیٰ کو عرش کے اوپر جانیں اور فوق کی طرف ثابت کریں۔ کیونکہ عرش اور اس کے ماسوا سب کچھ حادث اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ مخلوق و حادث کی کیا مجال ہے کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے ۔‘‘

(مکتوبات امام ربانیؒ؛ ج 2ص 225)

[۴]: قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ فرماتے ہیں:
’’حق تعالیٰ باوجود  وراء الوراء کے قریب عبد کے ہے ’’ وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ‘‘ ایسے تشاویش کی ضرورت نہیں اور ’’ مَعَکُمْ‘‘  علم سے معیت تعبیر کرنا کچھ حاجت نہیں ’’ھُوَ‘‘  ضمیر ذات ہے جہاں علم وہاں ذات۔ پس تکلف کی کیا حاجت ہے ؟ حق تعالیٰ فوق، تحت سے بری ہے۔  فوق اور تحت اور ہر جاموجود ہے عروج روح و قلب کا فوق کی جانب اس خیال سے نہیں ہے کہ حق تعالی فوق العرش ہے۔ نہیں سب جگہ ہے قلب مومن کے اندر بھی ہے پس فوق کا خیال مت کرو ۔‘‘ (مکاتیب رشیدیہ ص 42)
[۵]:          حضرت مولانا محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خدا ہر جگہ موجود ہے۔“

(ملفوظات فقیہ الامت: ج2 ص14)

[۶]: عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’بس ایک بات عرض کرتا ہوں، بعض لو گ مخلوق کے سامنے گناہ سے بچتے ہیں، دو چار دوست بیٹھے ہوں ہاں ان کے سامنے گناہ نہیں کرتے کیونکہ مخلوق کے سامنے ذلیل ہو جائیں گے یا مخلوق ان سے انتقام لے سکتی ہے، لیکن میں یہ پوچھتا ہوں کہ جس خلوت اور تنہائی میں انسان گناہ کرتا ہے اس وقت خدا اس کے ساتھ ہے یا نہیں؟تو مخلوق زیادہ طاقتور یا خالق زیادہ طاقتور ہے؟ بڑی طاقت کے سامنے تو گناہ کرتے خوف نہ لگا اور کمزور مخلوق کے ڈر سے گناہ چھوڑ رہا ہے! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ جہاں بھی تم ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔اتنی عظیم الشان والا ہمارے، آپ کے حجروں اور کمروں میں ساتھ ہے، کوٹھڑیوں میں ساتھ ہے، لیکن انسان کی فطرت دیکھیے کہ چند انسان اس کو دیکھ رہے ہوں تو وہاں گناہ سے بچتا ہے اور پھر گناہ کے لیے تنہائی تلاش کرتا ہے، راستے بند کرتا ہے ، دروازے بند کرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے لیکن وہ ذات پاک جو مخلوق سے بے شمار گنا عظیم الشان اور عظیم القدرۃ ہے وہ وہیں ساتھ میں ہے،وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ۔

(اہل اللہ اور صراط مستقیم، سلسلہ مواعظ حسنہ نمبر21، ص11،12)

[۷]:          شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سورۃ البقرۃ آیت نمبر115 کی تشریح  میں لکھتے ہیں:
”مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اس کی تابع فرمان ہیں،  اللہ تعالیٰ کسی ایک جہت میں محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دے  بندوں کا کام یہ ہے کہ اسی حکم کی تعمیل کریں۔“

(آسان ترجمہ:  ج1 ص90)

اسماء باری تعالیٰ :

اسماء باری دو قسم پر ہیں ۔[۱]:ذاتی  [۲]: صفاتی

چند فوائد :

فائدہ نمبر 1 :         اللہ تعالی کے صفاتی ناموں کو ’’اسماء ِحسنیٰ‘‘ کہتے ہیں۔
فائدہ نمبر 2 :         قرآن و حدیث میں وارد تمام اسماءِ الہیہ کا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال کرنا جائز ہے اور جو اسماء قرآن و حدیث میں وارد نہیں امام ابو الحسن اشعریؒ کے نزدیک ان کا استعمال ذاتِ باری کے لئے ناجائز ہے ‘جبکہ امام فخر الدین رازیؒ اور امام غزالیؒ کے نزدیک ذاتِ باری کے لئے ان کا استعمال بطورِ اسم کے ناجائز اور بطورِ وصف کے جائز ہے ۔مثلاً ’’یَا قَدِیْمُ‘‘ نہیں کہَ سکتے  البتہ  ’’اَللّٰہُ قَدِیْمٌ‘‘کہہ سکتے ہیں۔
فائدہ نمبر 3 :        ہر زبان میں ذاتِ باری کے لئے ذاتی نام مقرر ہے ۔ ان کا استعمال اسی زبان میں ذات باری کے لئے جائز ہے۔ جیسے اردو اورفارسی میں ’’خدا‘‘ اور انگریزی میں”God“ ( بڑی Gکے ساتھ) البتہ کفار میں ذات باری کے لئے استعمال ہونے والے اسماء کے بارے میں جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ یہ ذاتی ہیں یا صفاتی یا صفات میں سے کس صفت کی ترجمانی کرتے ہیں ‘اس وقت تک اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے۔ جیسے فارسی میں ’’اہرمن ‘‘ اور ’’یزدان‘‘۔  ”اہر من“ کا معنی ”خیر کا خدا“ اور ”یزدان“ کا معنی ”شر کا خدا“
فائدہ نمبر 4 :        حدیث ابو ہریرہؓ :’’اِنَّ لِلّٰہِ تَعَالٰی تِسْعَۃً وَ تِسْعِیْنَ اسْمًا‘ مِاَئَۃً اِلَّا وَاحِدَۃً، مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ (جامع الترمذی ج 2 ص 190کتاب الدعوات ) میں وارد تمام اسماء حسنی کا حصر نہیں بلکہ ننانوے ناموں کا تذکرہ بطورِ فضیلت کے ہے ‘یعنی جو بندہ اللہ تعالیٰ کے ان  ننانونے اسماء کو یاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے جنت عطا فرمائیں گے ۔
فائدہ نمبر 5 :        ننانوے اسماء حسنیٰ :
’’ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرَّحمٰن الرَّحیم المَلِک القُدُّوس السَّلام المؤْمن المُھَیْمِن العزیز الجبَّارالمتَکَبِّر الخالق الباریء المصوِّر الغفَّار القھَّار الوھَّاب الرزَّاق الفتَّاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المُعِزُّ المُذِلُّ السمیع البصیرالحَکَم العَدْل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العَلِیُّ الکبیر الحفیظ المُقِیْت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المُجیب الواسع الحکیم الوَدُود المجید الباعث الشھید الحَقُّ الوکیل القَوِیُّ المتین الوَلِیُّ الحمید المُحْصِی المُبْدِیُٔ المُعِید المُمِیْت الحَیُّ القَیُّوم الواجد الماجد الواحد الاَحَدالصَمَد القادر المُقْتَدِر المُقَدِّم المُؤَخِّر الاول الآخِر الظاھر الباطن الوالی المُتَعَالی البَرُّ التوَّاب المُنْتَقِم العَفُوُّ الرَّؤُف مالکُ الملک ذو الجلال والا کرام المُقْسِط الجامع الغَنِیُّ المُغْنِی المانع الضارُّ النافع النور الھادی  البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ ‘‘
فائدہ نمبر 6 :        بواسطہ اسماءِ حسنیٰ دعائے مستجاب کا مجرَّب طریقہ  :
            گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر سورہ حشر کا آخری رکوع﴿یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ااتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ الآیۃ﴾ پڑھیں اور جب ﴿مُتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ﴾  پڑھ چکیں تو اپنی مشکل کا نام لے کر یوں دعا مانگیں ’’یا اللہ ! میری یہ مشکل میرے لئے پہاڑ ہے۔ اپنی قدرت، طاقت اور اس تلاوت کی برکت سے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ فرما دے ‘‘  اور جب ﴿لَہُ الْاَ سْمَائُ الْحُسْنٰی﴾ پڑھ چکے تو ننانوے اسماء ِحسنیٰ کو پڑھے، دل میں اپنی مراد کا تصور کرے اور رکوع کے اختتام پر گیارہ بار درود شریف پڑھے ، پھر اپنی مراد مانگے ۔
فائدہ نمبر 7 :         اسماءِحسنیٰ کو ’’یا‘‘ حرفِ ندا اور بغیر حرفِ ندا کے ‘دونوں طرح پڑھنا بلا کراہت درست اور جائز ہے ۔
فائدہ 8:  اسمائے حسنی میں سے کون سے اسماء بندوں کے لیے استعمال کے جاسکتے ہیں۔
اس بارے میں شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی تحقیق نہایت ہی قابل قدر ہے اور ہماری نظر میں اہل علم حضرات کے لیے کافی وافی ہے فتاویٰ عثمانی سے من وعن نقل کی جاتی ہے۔
’’سوال:   آج کل عموماً باری تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ’’ عبد‘‘ کے اضافے کے ساتھ نام رکھے جاتے ہیں‘ مگر عموماً غفلت کی وجہ سے مسمّٰی کو بدون’’ عبد‘‘ کے پکاراجاتاہے‘ حالانکہ بعض اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘مثلاً عبدالرزاق وغیرہ‘ اندریں احوال اپنی جستجو کے مطابق فیض الباری ج:۴ ص:۴۲۳ سے اسمائے حسنی درج کر رہا ہوں، تحقیق فرمائیں کہ کون سے اسماء باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں‘ کہ ان کو بدون’’ عبد‘‘ کے مخلوق کے لیے استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے‘ اگر ان کے علاوہ اور کوئی اسماء ہوں تو وہ بھی درج فرمائیں مع تحقیق کے‘ نیز اسماء کے شروع یا آخر میں ’’محمد‘‘ یا’’ احمد‘‘ یا’’ اللہ‘‘ کا اضافہ کیسا ہے ؟مثلاً محمد متکبر، خالق احمد، محمد اللہ، احمد رزاق۔
 اللہ ، الرحمن ،الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المؤمن المھیمن ،العزیز، الجبار،المتکبر، الخالق، الباریٔ، المصور، الغفار، القھار،التواب، الوھاب ،الخلَّاق،الرزاق، الفتاح ،الحلیم،العلیم،العظیم،الواسع، الحکیم،الحی، القیوم، السمیع ،البصیر، اللطیف،الخبیر،العلی،الکبیر،المحیط،القدیر،المولیٰ،النصیر،الکریم،الرقیب،القریب،المجیب،الحفیظ،المقیت،الودود،المجید،الوارث،الشھید،الولی،الحمید،الحق،المبین،الغنی، المالک،القوی، المتین،الشدید، القادر، المقتدر،القاہر،الکافی،الشاکر، المستعان،الفاطر، البدیع،الفاخر،الاول، الآخر، الظاھر، الباطن،الکفیل، الغالب، الحکم، العالم،الرفیع،الحافظ،  المنتقم، القائم، المحیی، الجامع، الملیک، المتعالی ،النور ، الھادی، الغفور،الشکور،العفو، الرؤوف، الا کرام، الاعلیٰ، البر، الخفی، الرب الالہ، الاحد ، الصمد، الذی لم یلد، ولم یولد، ولم یکن لہ کفوااحد۔
جواب:     کسی کتاب میں یہ تفصیل تو نظر سے نہیں گزری کہ کون کون سے اسمائے حسنیٰ صرف  اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں‘ او رکون سے اسماء کا اطلاق دوسروں پر ہوسکتاہے‘ لیکن مندرجہ ذیل عبارتوں سے اس کا ایک اصول معلوم ہوتاہے:۔
تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں:’’ وَذَکَرَ غَیْرُوَاحِدٍ مِنَ الْعُلَمَآئِ اَنَّ ہٰذِہِ الْاَسْمَائَ…تَنْقَسِمُ قِسْمَۃٌ اُخْرٰی اِلٰی مَا لَایَجُوْزُ اِطْلَاقُہٗ عَلٰی غَیْرِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ کَا للّٰہِ وَالرَّحْمٰنِ وَمَا یَجُوْزُ کَالرَّحِیْمِ وَالْکَرِیْمِ ‘‘    (روح المعانی ج:9ص123 طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)
اور رد مختار میں ہے:
’’وَجَازَ التَّسْمِیَّۃُ بِعَلِیٍّ وَرَشِیْدٍ مِنَ الْاَسْمَآئِ الْمُشْتَرِکَۃِ وَیُرَادُ فِیْ حَقِّنَا غَیْرُمَایُرَادُ فِیْ حَقِّ اللّٰہِ تَعَالیٰ ۔وَفِیْ رَدِّ الْمُحْتَارِ: اَلَّذِیْ فِی التَّاتَرْخَانِیَّۃِ عَنِ السِّرَاجِیَّۃِ التَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ یُوْجَدُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَیٰ کَا لْعَلِیِّ وَالْکَبِیْرِ وَالرَّشِیْدِ وَالْبَدِیْعِ جَائِزَۃٌ الخ‘‘

(شامی ج:5ص:268)

وَفِی الْفَتَاوٰی الھِنْدِیَّۃِ: اَلتَّسْمِیَّۃُ بِاسْمٍ لَمْ یَذْکُرْہٗ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِیْ عِبَادِہٖ وَلَا ذَکَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہُﷺ وَلَااسْتَعْمَلَہٗ الْمُسْلِمُوْنَ تَکَلَّمُوْا فِیْہٖ‘ وَالْاَوْلٰی اَنْ یَفْعَلَ کَذَافِی الْمُحِیْطِ۔                                                                                                                                                                                                                                 (فتاویٰ عالمگیریہ ص:362حظر واباحت باب22)
اورحضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اسماء حسنیٰ میں بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو قرآن وحدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا گیاہے اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ تو جن ناموں کا استعمال غیراللہ کے لیے قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی‘ کریم‘ عزیز وغیرہ۔ اور اسمائے حسنیٰ میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں‘ ان کو غیرا اللہ کے لیے استعمال کرنا الحادِ مذکورمیں داخل اور ناجائز وحرام ہے۔(معارف القرآن ج:۴ص:۱۳۲ سورہ اعراف :۱۸)
ان عبارتوں سے اس بارے میں یہ اصول مستنبط ہوتے ہیں۔
نمبر1:     وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کے اسم ذات ہوں یا صرف باری تعالیٰ کی صفات مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں‘ ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال جائز نہیں‘مثلاً: اللّٰہ،  الرحمٰن ، القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، الباریٔ ، المصور، الرزاق، الغفار، القہار، التواب، الوہاب، الخلاق، الفتاح، القیوم، الرب، المحیط، الملیک، الغفور، الاحد، الصمد، الحق، القادر المحیی۔
نمبر2:     وہ اسمائے جو باری تعالیٰ کی صفات خاصہ کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے معنی کے لحاظ سے ان کا اطلاق غیر اللہ پر کیاجاسکتاہو ‘ان میں تفصیل یہ ہے
کہ اگر قرآن وحدیث‘ تعاملِ امت یا عرفِ عا م میں ان اسماء سے غیرا للہ کا نام رکھنا ثابت ہوتو ایسا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں‘ مثلاً: عزیز‘ علی‘ کریم‘ رحیم‘ عظیم، رشید، کبیر، بدیع، کفیل، ہادی‘ واسع، حکیم وغیرہ اورجن اسمائِ حسنیٰ سے نام رکھنا نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہو اور نہ مسلمانوں میں معمول رہاہو، غیر اللہ کو ایسے نام دینے سے پرہیز لازم ہے۔
نمبر3:     مذکورہ دواصولوں سے اصول خود بخود  نکل آیا کہ جن اسمائے حسنیٰ کے بارے میں یہ تحقیق نہ ہوکہ قرآن وحدیث ‘تعاملِ امت یا عرف میں وہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟ ایسے نام رکھنے سے بھی پرہیز لازم ہے‘ کیونکہ اسمائے حسنیٰ میں اصل یہ ہے کہ ان سے غیراللہ کانام رکھنا جائز نہ ہو‘ جواز کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔
            ان اصولوں پرتمام اسمائے حسنیٰ کے بارے میں عمل کیاجائے‘ تاہم یہ جواب چونکہ قواعد سے لکھاہے اور ہر ہرنام کے بارے میں اسلام کی کوئی تصریح احقرکو نہیں ملی، اس لیے اگر اس میں دوسرے اہل علم سے بھی استصواب کرلیاجائے تو بہترہے۔واللہ سبحانہ اعلم
(فتاویٰ عثمانیہ ص52، 53)
فائدہ نمبر9:        مسئلہ صفات کو دلائل کے ساتھ سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔
1:          کتاب الا سماء والصفات ۔امام بیہقی  ؒ
2:         دفع شبہ التشبیہ۔ امام ابن جوزی ؒ
3:          ایضاح الدلیل ۔بدر الدین ابن الجماعۃ ؒ
4:         المسامرہ مع المسایرہ۔ ابن الہمام ؒ
5:          اشارات المرام۔ امام بیاضی ؒ
6:         شرح المقاصد ۔علامہ تفتازانی   ؒ 
7:         شرح مواقف ۔میر سید شریف جرجانیؒ 
8:          اتحاف الکائنات۔ شیخ محمود سبکیؒ
9:         مقالات الکوثری۔ شیخ زاہد الکوثریؒ
10:              اساس التقدیس ۔امام فخر الدین الرازیؒ
11:         تمہید الفرش فی تحدید العرش۔ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ